جامعہ کراچی میں نمبروں کی خرید و فروخت کا اسکینڈل، کنٹرولر امتحانات برطرف
جامعہ کراچی میں قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ سو فیل طلبہ کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر پاس کرنے کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جس پر انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے کنٹرولر امتحانات کو فارغ کر دیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر جامعہ کراچی میں تعلیمی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جہاں قانون کے شعبے میں امتحان میں فیل ہونے والے تقریبا ایک سو پچاس طلبہ کو مبینہ طور پر غیر قانونی ذرائع سے پاس کر دیا گیا۔ اس سنگین واقعے نے نہ صرف جامعہ کراچی کی انتظامی صلاحیتوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے بلکہ اعلیٰ تعلیمی اسناد کے تقدس کو بھی پامال کیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ گٹھ جوڑ مبینہ طور پر امتحان کے شعبے کے اندرونی عملے اور کچھ با اثر افراد کے درمیان پایا گیا، جس کے ذریعے فیل شدہ طلبہ کی جوابی کاپیوں میں ہیرا پھیری کی گئی اور انہیں کامیاب قرار دے دیا گیا۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے صوبائی حکومت اور یونیورسٹی کے اعلیٰ حکام نے نوٹس لیا اور فوری کارروائی کرتے ہوئے کنٹرولر امتحانات کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ جامعہ کی تاریخ میں اس نوعیت کا یہ پہلا بڑا اسکینڈل ہے جس نے تعلیمی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات کسی بھی ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کا زوال براہ راست اس کی معیشت اور پیشہ ورانہ مہارتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب قانون جیسے اہم شعبے میں نااہل اور سفارش کے بل بوتے پر ڈگری حاصل کرنے والے افراد پیشہ ورانہ میدان میں آئیں گے، تو اس سے قانونی خدمات کے معیار میں گراوٹ آئے گی۔ کاروباری اور تجارتی حلقے ہمیشہ اس بات کے خواہاں ہوتے ہیں کہ انہیں قابل، دیانتدار اور مستند قانونی مشیر اور وکلاء میسر آئیں جو کاروباری تنازعات کو احسن طریقے سے حل کر سکیں۔ اس طرح کے تعلیمی اسکینڈلز سے ملک کی بین الاقوامی سطح پر تعلیمی ساکھ متاثر ہوتی ہے، جس سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ معیاری تعلیم کے فقدان سے ملک کا پیشہ ورانہ ڈھانچہ کمزور ہوتا ہے جو طویل عرصے میں معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد مختلف حلقوں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جامعہ کراچی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ادارے میں کرپشن کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر عمل کیا جائے گا اور کسی بھی سطح پر قانون شکنی کرنے والوں کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ طلبا تنظیموں اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ اور اعلیٰ سطح جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس مکروہ دھندے میں ملوث تمام بڑے نام بے نقاب ہو سکیں۔ دوسری جانب، برطرف کیے جانے والے کنٹرولر امتحانات نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اپنے خلاف ہونے والی کارروائی کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ثبوت اتنے پختہ ہیں کہ فوری تادیبی کارروائی ناگزیر تھی۔
مستقبل کا منظرنامہ جامعہ کراچی کے اس اسکینڈل کے بعد مستقبل میں اممتحانی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے اور شفاف بنانے کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ تمام پچھلے فیصلوں کا از سر نو جائزہ لے گی اور ان تمام ایک سو پچاس طلبہ کی ڈگریوں اور نمبروں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی جن پر شک ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے کی جڑیں تلاش کرنے کے لیے وفاقی یا صوبائی سطح کی تحقیقاتی ایجنسیوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔ اس اقدام سے نہ صرف یونیورسٹی کے اندرونی نظام کو درست کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مستقبل میں اس طرح کی بدعنوانیوں کا راستہ روکنے کے لیے ایک کڑا قانون بھی بنایا جائے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp