کراچی میں ترقیاتی کاموں کے باعث اہم شاہراہوں کی بندش سے تجارتی اور معاشی سرگرمیاں شدید متاثر
کراچی میں ترقیاتی کاموں کے باعث سر سید روڈ اور حسن اسکوائر کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی کے مصروف ترین علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے جاری ترقیاتی کاموں کے تسلسل میں سر سید روڈ اور حسن اسکوائر کے اطراف کے راستوں کو ٹریفک کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کے مطابق یہ اقدامات طویل المدتی بنیادوں پر ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنانے اور روڈ انفراسٹرکچر کی مرمت کے لیے ناگزیر ہیں۔ تاہم، اس اچانک بندش کے نتیجے میں شہر کے اس اہم کوریڈور پر روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں اور مسافروں کو شدید نوعیت کے ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متبادل راستوں پر گاڑیوں کا بے پناہ رش لگ جانے کی وجہ سے ایمبولینسز اور پبلک ٹرانسکل بھی گھنٹوں پھنسی رہتی ہیں، جس سے انتظامی مشینری کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات ان اہم شاہراہوں کی بندش کا براہ راست اور منفی اثرات مقامی معیشت، مارکیٹوں اور چھوٹے بڑے کاروبار پر پڑ رہا ہے۔ حسن اسکوائر اور ملحقہ تجارتی مراکز کے تاجروں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے گاہکوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی فروخت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اشیاے خور و نوش اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں کو وقت پر منزل تک پہنچنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے، جس کے باعث سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ دکانداروں کو کرایوں اور دیگر اخراجات پورے کرنے میں بھی مشکلات پیش آ रही ہیں کیونکہ کاروباری گھنٹوں میں خریداروں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل شہر کی تاجر برادری اور انجمنِ تاجران نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی کاموں کی رفتار کو تیز کیا جائے تاکہ بندش کا دورانیہ کم سے کم ہو۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی کام ترقی کی علامت ہیں لیکن اس کے لیے پہلے سے موثر حکمت عملی اور بہتر ٹریفک پلان مرتب کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب، ٹریفک پولیس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن کے حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کام شہریوں کے طویل مفاد میں کیے جا رہے ہیں اور ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے متبادل راستوں پر اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ شہریوں کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ ماہرینِ معاشیات اور شہری امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت کے اندر مکمل نہ کیا گیا تو کراچی کی پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشت کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ضلعی حکومت کو چاہیے کہ وہ تاجر برادری کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے اور انہیں نقصانات سے بچانے کے لیے ریلیف کے اقدامات پر غور کریں۔ اس منصوبے کی بروقت تکمیل نہ صرف ٹریفک کے دیرینہ مسائل کا حل ہے بلکہ اس سے اس خطے میں کاروباری سرگرمیاں بھی بحال ہو سکیں گی، جو شہر کے مجموعی معاشی استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp