کراچی میں جعلی کمپنیوں کے نام پر تین ارب چھبیس کروڑ روپے کے انٹرنیٹ راؤٹرز کی درآمد کا انکشاف
کراچی میں جعلسازی کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے جہاں فرضی کمپنیوں کی آڑ میں اربوں روپے کے انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد کیے گئے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی کے تجارتی اور کسٹم حلقوں میں ایک بڑے اسکینڈل کا پردہ فاش ہوا ہے، جہاں مبینہ طور پر جعلی اور فرضی کمپنیوں کے نام پر تین ارب چھبیس کروڑ روپے مالیت کے جدید انٹرنیٹ راؤٹرز درآمد کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اس غیر قانونی دھندے میں ملوث عناصر نے درآمدی قوانین اور ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملک میں ممنوعہ اور غیر معین ذرائع سے سامان کی ترسیل کی۔ یہ نیٹ ورک انتہائی چالاکی سے کاغذی کمپنیاں بنا کر کام کر رہا تھا جن کا زمینی وجود حسی طور پر موجود نہیں تھا مگر کسٹم کے ریکارڈ میں وہ فعال دکھائی جا رہی تھیں۔
تجارتی و معاشی اثرات اس غیر قانونی درآمد کے معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ایک طرف جہاں قومی خزانے کو اربوں روپے کے ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں نقصان اٹھانا پڑا، وہیں دوسری طرف جائز اور قانونی طریقے سے کاروبار کرنے والے تاجروں کو شدید مسابقتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ اس قسم کی اسمگلنگ اور ٹیکس چوری سے مقامی منڈی میں اشیاء کے نرخوں میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، جس سے نہ صرف انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ متاثر ہوتا ہے بلکہ مروجہ تجارتی اصولوں کی بھی دھجیاں اڑتی ہیں۔ ریٹیل مارکیٹ میں ایسے راؤٹرز کی کم قیمت پر دستیابی دی ایماندار تاجروں کے لیے کاروبار کو جاری رکھنا مشکل بنا دیتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل واقعੇ کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ اداروں اور کسٹم حکام نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ انٹیلی جنس اور نفاذِ قانون کے اداروں نے اس بات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ اتنی بڑی مقدار میں سامان کس طرح کلیئرنس حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ تاجر برادری اور متعلقہ صنعت کاروں نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے کھیل میں ملوث اندرونی اور بیرونی عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور کسٹم حکام کی مبینہ غفلت یا ملی بھگت کی بھی مکمل جانچ پڑتال کی جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اس اسکینڈل کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے تاکہ تمام سہولت کاروں کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔ حکومتی اداروں کی جانب سے اس بات کا عزم ظاہر کیا گیا ہے کہ جعلی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید تیز کیا جائے گا اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا نظام سخت بنایا جائے گا تاکہ آئندہ اس قسم کے مالیاتی فراڈ اور ٹیکس چوری کی روک تھام کی جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp