Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال میں حفاظتی انتظامات مفلوج، مریضوں اور طبی عملے کی زندگیاں خطرے میں

اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال میں فائر فائٹنگ سسٹم کی غیر موجودگی اور اے سی پلانٹ کی خرابی نے مریضوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال میں حفاظتی انتظامات مفلوج، مریضوں اور طبی عملے کی زندگیاں خطرے میں

اہم ترین حقائق و پس منظر

اسلام آباد کے قلب میں واقع فیڈرل گورنمنٹ پولی کلینک اسپتال، جو کہ وفاقی دارالحکومت کے ہزاروں شہریوں اور سرکاری ملازمین کی طبی ضروریات کا مرکز ہے، سنگین نوعیت کے انتظامی مسائل اور حفاظتی خامیوں کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ حالیہ انکشافات کے مطابق اسپتال کی عمارت میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فائر فائٹنگ کا کوئی باقاعدہ اور فعال نظام موجود نہیں ہے۔ خدانخواستہ آتشزدگی کی کوئی بھی ہنگامی صورتحال رونما ہونے کی صورت میں یہاں موجود قیمتی جانوں کو بچانے کے لیے کوئی پیشگی حفاظتی بندوبست موجود نہیں ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، موسم گرما کی شدت میں اضافے کے باوجود اسپتال کا مرکزی ایئر کنڈیشنگ سسٹم طویل عرصے سے غیر فعال ہے۔ وارڈز اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں اے سی بند ہونے کی وجہ سے مریضوں، بالخصوص دل، سانس اور آپریشن کے بعد زیر علاج افراد کی حالت دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کی جانب سے ان بنیادی سہولیات کی فراہمی میں غفلت نے پورے طبی نظام پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات

ایک رفاہی اور سرکاری ادارے میں اس نوعیت کی بنیادی سہولیات کا فقدان نہ صرف انتظامی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کے وسیع تر معاشی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ جب سرکاری اسپتالوں میں علاج کا معیار گرتا ہے اور بنیادی انتظامات بہتر نہیں رہتے تو عام آدمی کو مجبورا مہنگے نجی اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ متوسط اور غریب طبقہ جو پہلے ہی مہنگائی کے طوفان کی زد میں ہے، نجی طبی اداروں کے بھاری اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔

اسپتال میں ایئر کنڈیشنگ کی غیر موجودگی کی وجہ سے ادویات اور ویکسین کے خراب ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے جنہیں مخصوص درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ طبی آلات پر بھی اس موسمی دباؤ کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جس سے سرکاری خزانے کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صحت کے شعبے میں کی جانے والی ان سست رویوں اور کوتاہیوں کا براہ راست اثر ملک کی مجموعی انسانی ترقی اور معاشی پیداوار پر پڑتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

اسپتال کے ذرائع اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے بارہا اعلیٰ حکام کو اس صورتحال سے آگاہ کیا جا چکا ہے، تاہم تادم تحریر کوئی مؤثر عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ سول سوسائٹی اور مریضوں کے لواحقین نے اس صورتحال پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے اہم ترین اسپتال میں اس قسم کی مجرمانہ غفلت ناقابل برداشت ہے۔

دوسری جانب، اسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ فائر فائٹنگ سسٹم کی تنصیب اور مرکزی ایئر کنڈیشنگ پلانٹ کی مرمت کے لیے فنڈز کی منظوری کا عمل جاری ہے اور متعلقہ محکموں کو باضابطہ طور پر درخواستیں دی جا چکی ہیں۔ تاہم, فنڈز کے اجرا میں تاخیر اور سرخ فیتے کی روایت کے باعث یہ ضروری کام التوا کا شکار ہیں، جس کا خمیازہ معصوم مریضوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ

اگر فوری طور پر پولی کلینک اسپتال میں فائر فائٹنگ کے جدید آلات نصب نہ کیے گئے اور ایئر کنڈیشنگ پلانٹ کو فعال نہیں بنایا گیا تو کسی بھی وقت ایک بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔ موسم گرما کی شدت میں مزید اضافے سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ وزارتِ صحت اور وفاقی حکومت فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں، ہنگامی بنیادوں پر خصوصی فنڈز جاری کریں اور متعلقہ حکام کی غفلت کی تحقیقات کر کے سخت کارروائی عمل میں لائیں تاکہ اس اہم ادارے کو کسی بڑے حادثے سے بچایا جا سکے اور شہریوں کو ان کا بنیادی حقِ صحت فراہم کیا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال میں حفاظتی انتظامات مفلوج، مریضوں اور طبی عملے کی زندگیاں خطرے میں