Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وفاقی دارالحکومت میں راستوں کی بحالی: اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا عمل تیز، تجارتی سرگرمیاں معمول پر آنے لگیں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی اہم شاہراہوں اور ریڈ زون سے کنٹینرز ہٹانے کا عمل تیزی سے جاری ہے، جس سے جڑواں شہروں میں معاشی اور تجارتی سرگرمیاں بتدریج بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں راستوں کی بحالی: اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا عمل تیز، تجارتی سرگرمیاں معمول پر آنے لگیں

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں حالیہ سیاسی تناؤ اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر لگائی گئی سیکیورٹی رکاوٹوں اور کنٹینرز کو ہٹانے کا سلسلہ دوسرے روز بھی مکمل شدومد سے جاری رہا۔ انتظامیہ کی جانب سے فیض آباد، سرینگر ہائی وے، روات ٹی چوک اور ریڈ زون کے ملحقہ حساس مقامات پر رکھے گئے بھاری بھرکم کنٹینرز کو ہیوی مشینری کی مدد سے بتدریج ہٹایا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دارالحکومت کے اہم ترین داخلی و خارجی راستوں کو آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کلیئر قرار دیا جا رہا ہے، جس سے جڑواں شہروں یعنی اسلام آباد اور راولپنڈی کے مابین روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں کو شدید ذہنی اور جسمانی کوفت کے بعد ریلیف میسر آیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات گزشتہ چند دنوں کے دوران راستوں کی بندش کے سبب اسلام آباد اور گردونواح کی منڈیوں میں خام مال اور زرعی اجناس کی ترسیل بدترین تعطل کا شکار رہی۔ جڑواں شہروں کی سبزی و فروٹ منڈیوں، اناج مارکیٹوں اور کریانہ ہول سیلرز تک سپلائی رکنے سے مقامی سطح پر قیمتوں میں مصنوعی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ریٹیل سطح پر روزمرہ اشیاء کی کمی کی شکایات عام ہو گئی تھیں جبکہ گڈز ٹرانسپورٹرز کو کرایوں اور ڈیزل کی مد میں بھاری اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ اب کنٹینرز ہٹائے جانے کے بعد بین الصوبائی لاجسٹکس کا نظام بحال ہو رہا ہے، جس سے اجناس کی ترسیل بلا تعطل جاری ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے اور مارکیٹوں میں اشیاء کے نرخ اعتدال پر آنے کی توقع ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل شہر کی اہم تاجر تنظیموں اور چیمبر آف کامرس نے راستوں کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے انتظامیہ اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی احتجاج کے تدارک کے لیے تجارتی شریانوں کو منجمد کرنے کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہر احتجاج کے موقع پر وفاقی دارالحکومت کو مکمل محصور کر دینے سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور چھوٹے دکانداروں کا اربوں روپے کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے حکام کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی تدابیر اور کنٹینرز کا استعمال شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور سرکاری املاک کو نقصان سے بچانے کے لیے ناگزیر تھا، اور خطرہ ٹلتے ہی ترجیحی بنیادوں پر راستے کھولے جا رہے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ اگرچہ اسلام آباد کی مرکزی شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں، تاہم مستقبل میں ایسے بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ایک منظم انتظامی و سیاسی میکانزم کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت اور اپوزیشن کے مابین مکالمے کی فضا قائم نہ ہوئی تو مستقل بنیادوں پر سپلائی چین کی پائیداری خطرے میں رہے گی۔ توقع ہے کہ آئندہ چند روز کے اندر تمام ذیلی شاہراہوں سے رکاوٹیں مکمل طور پر ہٹا کر معمول کی معاشی سرگرمیاں اپنی پوری رفتار کے ساتھ بحال ہو جائیں گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وفاقی دارالحکومت میں راستوں کی بحالی: اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا عمل تیز، تجارتی سرگرمیاں معمول پر آنے لگیں