Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

اسحاق ڈار کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کا دوٹوک مطالبہ

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی موجودگی میں افغانستان سے درپیش سکیورٹی خدمزات کا مؤثر انداز میں اٹھاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف دوٹوک مؤقف اپنایا ہے۔

اسحاق ڈار کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کا دوٹوک مطالبہ

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد اور کابل کے درمیان جاری کشیدہ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سحاق ڈار نے بین الاقوامی سفارتی فورم پر ایک بار پھر پاکستان کا مؤقف دوٹوک انداز میں پیش کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ساتھ ہونے والی اس اہم ملاقات میں علاقائی امن، سلامتی اور بالخصوص افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف مبینہ استعمال کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے اٹھایا گیا۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف رکھتا آ رہا ہے کہ کالعدم تنظیمیں افغانستان کی سرزمین کو پاکستانی حدود میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جس سے نہ صرف ملکی داخلی سلامتی کو خطلاحق ہے بلکہ معاشی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات سرحدی علاقوں میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کا براہ راست اثر پاک افغان تجارت، راہداری تجارت اور ملکی معیشت پر پڑ رہا ہے۔ کلیات اور طورخم سمیت اہم سرحدی گزرگاہوں پر وقتاً فوقتاً پیدا ہونے والے تعطل سے تجارتی برادری کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ تاجروں اور ریٹیلرز کے مطابق، سرحدی سلامتی کی بہتری کے بغیر دوطرفہ تجارت کا فروغ ممکن نہیں ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک خطے میں امن قائم نہیں ہوتا، برآمدات اور معاشی ترقی کے اہداف کا حصول مشکل رہے گا، جس سے عام آدمی کے لیے مہنگائی اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ عبوری افغان حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی مبصرین کا خیال ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی اور انٹیلی جنس سطح پر تعاون بڑھانے سے ہی خطے کو طویل مدتی استحکام مل سکتا ہے۔ تاجر یونینز نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ تجارتی راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے ترجیحی اقدامات کیے جائیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی جانب سے افغان پالیسی پر نظرثانی اور عالمی اداروں کے ساتھ اشتراک عمل میں تیزی آنے کا امکان ہے۔ اگر عالمی برادری اس معاملے پر عملی اقدامات کرتی ہے اور کابل انتظامیہ دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی کرتی ہے، تو نہ صرف پاک افغان تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ خطے میں تجارتی سرگرمیاں بھی نئے فروغ سے ہمکنار ہوں گی۔ کالیار ٹریڈرز کے تجارتی حلقے اس پیش رفت کو معاشی مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
اسحاق ڈار کا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے سامنے افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کا دوٹوک مطالبہ