آئیسکو کی نجکاری کا عمل تیز، دس نامور کاروباری گروپس اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی
آئیسکو کی نجکاری کے لیے دس سرمایہ کار گروپس نے دلچسپی ظاہر کی ہے جس سے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی راہ ہموار ہوگی۔

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کی نجکاری کے عمل میں اس وقت اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جب ملک کے نامور کاروباری اور صنعتی گروپس نے اس عمل میں بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ترجمان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر دس ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں اور کاروباری گروپس نے آئیسکو کی نجکاری کے عمل میں شمولیت کے لیے اپنے اظہارِ دلچسپی کے دستاویزات باضابطہ طور پر جمع کرا دیے ہیں۔ یہ اقدام حکومت پاکستان کی اس وسیع تر معاشی اصلاحاتی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کے بڑھتے ہوئے مالی خسارے پر قابو پانا اور نجی شعبے کی مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے بجلی کی ترسیل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔
آئیسکو کا شمار ملک کی ان بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ہوتا ہے جو نسبتاً بہتر کارکردگی کی حامل ہیں، تاہم مجموعی توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کے بحران کے باعث سرکاری اداروں کی نجکاری کو ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی پاور سیکٹر کی نجکاری کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور رہی ہیں، لیکن موجودہ معاشی صورتحال میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے دباؤ اور ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات کو ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات آئیسکو جیسے منافع بخش اور اہم ادارے کی نجکاری کے معاشی اور تجارتی اثرات انتہائی دور رس ثابت ہوں گے۔ ماہرینِ معیشت کا ماننا ہے کہ جب بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں نجی انتظام کے تحت چلائی جائیں گی تو اس سے لائن لاسز میں کمی آئے گی، بلوں کی وصولی کا نظام بہتر ہوگا اور بجلی چوری کی روک تھام میں مدد ملے گی جس کا براہ راست اثر معیشت پر پڑے گا۔
صعنت کاروں اور تجارتی برادری کی جانب سے اس عمل کو سراہا جا رہا ہے کیونکہ ان کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں شفافیت لائی جائے تاکہ کاروباری لاگت کو کم کیا جا سکے۔ ریٹیلرز اور عام صارفین کے لیے اس تبدیلی کے طویل مدتی اثرات مثبت ہو سکتے ہیں اگر نجی انتظام کے نتیجے میں سروسز کا معیار بہتر ہو اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ تاہم، اس بات کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے کہ نجکاری کے دوران ملازمین کے حقوق اور روزگار کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کے سماجی تناؤ سے بچا جا سکے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کی جانب سے اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارتِ نجکاری اور متعلقہ حکام کا مؤقف ہے کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے اس قدر پذیرائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پالیسی سازوں کی معاشی اصلاحات پر کاروباری برادری کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ حکومت کا عزم ہے کہ تمام مراحل کو مکمل شفافیت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
دوسری جانب، مزدور یونینز اور ملازمین کے نمائندوں نے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ملازمین کا مؤقف ہے کہ نجکاری سے ملازمتوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے ہیں اور حکومت کو چاہیے کہ وہ کارپوریٹائزیشن یا نجکاری کی بجائے ادارے کے اندرونی نظام کو بہتر بنائے۔ تاہم، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تمام فیصلے قانون کے مطابق اور ملازمین کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئیسکو کی نجکاری کا یہ مرحلہ دراصل پاکستان میں پاور سیکٹر کی نجکاری کے پورے پروگرام کا ایک بڑا امتحان ہے۔ آنے والے ہفتوں میں شارٹ لسٹ کیے گئے سرمایہ کاروں کو بڈنگ کے عمل میں شرکت کی دعوت دی جائے گی اور مالیاتی بولیاں طلب کی جائیں گی۔ اگر یہ عمل کامیابی سے مکمل ہو جاتا ہے تو دیگر بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نجکاری کے لیے بھی راستہ ہموار ہو جائے گا۔
مستقبل کے منظرنامے میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کامیاب خریدار کس طرح کمپنی کے تنظیمی ڈھانچے کو بہتر بناتے ہیں اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آئیسکو کی نجکاری ملک میں براہ راست غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.