حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں آوارہ کتنے کے کاٹنے سے چار سالہ معصوم بچہ جاں بحق
حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے چار سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا، جس پر شہریوں اور تاجر برادری نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر حیدرآباد کے گنجان آباد علاقے لطیف آباد میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں آوارہ کتے کے کاٹنے سے چار سالہ معصوم بچہ زندگی کی بازی ہار گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک انسانی المیہ ہے بلکہ مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق، بچہ گھر کے قریب کھیل رہا تھا جب ایک آوارہ کتے نے اس پر حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا۔ بچے کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بروقت طبی امداد اور مناسب ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث بچہ جانبر نہ ہو سکا۔ اس واقعے کے بعد سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا ہے اور والدین اپنے بچوں کو گھروں سے باہر نکالنے سے گریزاں ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے طویل عرصے سے آوارہ کتوں کے خلاف کوئی موثر مہم نہیں چلائی گئی، جس کی وجہ سے یہ خطرہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات اس طرح کے ناخوشگوار واقعات کا بالواسطہ اثر مقامی معیشت، بازاروں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی مرتب ہوتا ہے۔ لطیف آباد کے تجارتی مراکز اور مارکیٹوں میں خریداروں کی آمد و رفت بالخصوص شام کے اوقات میں متاثر ہوتی ہے جب والدین اپنے بچوں کو بازار لانے سے کتراتے ہیں۔ اس کے علاوہ، صحت عامہ کے اس بحران کی وجہ سے علاج معالجے کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے، اور غریب طبقات کے لیے نجی اسپتالوں سے ریبیز کی مہنگی ویکسین خریدنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مقامات اور مارکیٹوں کے اردگرد آوارہ کتوں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ کاروبار اور روزمرہ زندگی بلا تعطل جاری رہ سکے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل واقعے کے بعد حیدرآباد کی تاجر برادری، سماجی تنظیموں اور مقامی شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور میونسپل کارپوریشن کے حکام اربوں روپے کے بجٹ کے باوجود شہریوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ شہر بھر میں آوارہ کتوں کے خلاف خصوصی مہم کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے المناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ اس سانحے کے بعد شہریوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ حکومت سندھ اور بلدیاتی ادارے آوارہ کتوں کی تلفی یا ویکسینیشن کے لیے ایک جامع اور پائیدار لائحہ عمل مرتب کریں۔ اگر فوری طور پر موثر اقدامات نہ کیے گئے تو عوامی احتجاج میں شدت آ سکتی ہے۔ ماہرین کا تقاضا ہے کہ ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی مفت اور وافر مقدار میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور میونسپل عملے کو پابند کیا جائے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر حفاظتی اقدامات کو عملی جامہ پہنائیں تاکہ کسی اور معصوم کی جان ضائع نہ ہو۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp