Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

حکومت اور اپوزیشن کی کشمکش نے ملکی معیشت کو کچے کے دلدل میں دھکیل دیا ہے: بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی سیاست کچے کے علاقے میں پھنس چکی ہے جس سے معیشت تباہ ہو رہی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن کی کشمکش نے ملکی معیشت کو کچے کے دلدل میں دھکیل دیا ہے: بیرسٹر گوہر

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے موجودہ سیاسی منظر نامے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی محاذ آرائی نے اداروں اور عام عوام کی زندگیوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ حکومتی صفوں اور اپوزیشن کیچڑ اچھالنے کی سیاست میں مصروف ہے، جس کی وجہ سے حقیقی عوامی اور معاشی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک سیاسی فریقین ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی سلامتی اور آئین کی بالادستی کے لیے ایک میز پر نہیں بیٹھتے، ملک اس دلدل سے نہیں نکل سکتا۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی عدم استحکام کے براہ راست اثرات ملکی معیشت، تجارت اور عام آدمی کے روزگار پر پڑ رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں اضافے، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی بڑی وجہ یہی سیاسی بے یقینی ہے۔ ملک کی بڑی منڈیوں میں کساد بازاری کا عالم ہے، جبکہ ریٹیلرز اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ سیاسی نعرے بازی اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے نیا سرمایہ کاری کا طوفان رک چکا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) جو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں، موجودہ ٹیکس نظام اور بلند شرح سود کے ساتھ ساتھ سیاسی بحران کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل دوسری جانب حکومتی اتحاد کا موقف ہے کہ اپوزیشن جماعتیں ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں اور ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے بلا جواز احتجاج کی سیاست کر رہی ہیں۔ حکومتی ترجمانوں کے مطابق معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہے اور مہنگائی میں کمی آ رہی ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کی ہٹ دھرمی اقتصادی سرگرمیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ادھر تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے دونوں فریقین سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ عوام کی مشکلات کا احساس کریں اور فوری طور پر گرینڈ ڈائیلاگ کا آغاز کریں تاکہ ملکی معیشت کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے کیونکہ سیاسی جنگ کی یہ قیمت بالاآخر عام شہری کو چکانا پڑ رہی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں اگر سیاسی کشمکش میں کمی نہ لائی گئی تو معاشی اشاریے مزید تنزلی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے اہداف کے حصول کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو انا کی جنگ سے نکل کر ایک جامع قومی معاشی ایجنڈے پر اتفاق کرنا ہوگا، بصورت دیگر ریاست اور معیشت دونوں کو ناقابل تلافی نقصان کا خطرہ لاحق رہے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
حکومت اور اپوزیشن کی کشمکش نے ملکی معیشت کو کچے کے دلدل میں دھکیل دیا ہے: بیرسٹر گوہر