Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سابق ایم این اے شہاب الدین خان کا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی کی رکنیت سے انکار

سابق ایم این اے شہاب الدین خان نے باجوڑ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی کی رکنیت قبول کرنے سے معذرت کرتے ہوئے شفافیت اور مؤثر اختیارات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

سابق ایم این اے شہاب الدین خان کا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی کی رکنیت سے انکار

اہم ترین حقائق و پس منظر سابق رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان نے ضلعی ترقیاتی مشاورتی کمیٹی (ڈی ڈی اے سی) باجوڑ کی رکنیت قبول کرنے سے باضابطہ طور پر معذرت کا اظہار کر دیا ہے۔ حکومتی سطح پر قبائلی اضلاع کے لیے تشکیل دی جانے والی اس کونسل کا مقصد پسماندہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بحالی، سماجی بہبود کے منصوبوں کی نگرانی اور پائیدار ترقی کے خدوخال طے کرنا تھا۔ شہاب الدین خان، جو ماضی میں اس خطے کی نمائندگی کر چکے ہیں، کے اس فیصلے نے انتظامی اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ باجوڑ کے سیاسی منظرنامے میں ان کا شمار ایک اہم اور بااثر رہنما کے طور پر ہوتا ہے، اور ان کی جانب سے کمیٹی کا حصہ بننے سے انکار دراصل مقامی انتظامی ڈھانچے پر تحفظات کا غماز ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے اختیارات اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری کے طریقہ کار پر سیاسی قیادت کے مابین کافی عرصے سے فاصلے موجود تھے۔

تجارتی و معاشی اثرات ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی کونسلوں کا قیام براہ راست معاشی سرگرمیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ جب تک مقامی کونسلیں فعال اور بااختیار نہ ہوں، تعمیراتی شعبے، سڑکوں کے نیٹ ورک اور تجارتی مراکز کے توسیعی منصوبے تاخیر کا شکار رہتے ہیں۔ شہاب الدین خان کے انکار کے بعد باجوڑ میں ترقیاتی بجٹ کے بر وقت استعمال پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاجر برادری اور مقامی ریٹیلرز کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی عدم تعمیر کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور بیرونی منڈیوں تک رسائی مشکل ہو رہی ہے۔ اگر سیاسی کشیدگی کے باعث ترقیاتی فنڈز منجمد رہے یا ان کا شفاف استعمال نہ ہوا، تو نجی سرمایہ کاری اور کاروباری اعتمادی کو شدید دھچکا پہنچے گا، جس کا براہ راست اثر اشیائے خوردونوش کی ترسیل اور مقامی روزگار پر پڑے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل شہاب الدین خان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا ہے کہ برائے نام مشاورت یا اختیارات کے بغیر کمیٹی کا رکن بننا علاقے کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ان کا ماننا ہے کہ کونسل کو مکمل خود مختاری اور فیصلہ سازی کے واضح اختیارات دیے بغیر مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ کونسل کی تشکیل کا مقصد تمام سیاسی دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا تھا تاکہ تعمیر و ترقی کے کاموں کو بلا تفریق آگے بڑھایا جا سکے۔ مقامی سیاسی رہنماؤں اور تاجر نمائندوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختلافات کی وجہ سے عوامی مفاد کے منصوبوں کو قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں ضلعی انتظامیہ کے لیے کونسل کو فعال بنانا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اگر حکومت نے تحفظات کو دور کرنے کے لیے شہاب الدین خان اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامقصد مذاکرات نہ کیے، تو یہ ادارہ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا۔ مستقبل کے منظرنامے میں یہ امکان موجود ہے کہ انتظامیہ کمیٹی کے خدوخال اور اختیارات پر نظرثانی کرے تاکہ وسیع تر سیاسی اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے۔ بصورت دیگر باجوڑ میں ترقیاتی فنڈز کا استعمال متنازع رہنے کا اندیشہ ہے، جس کے منفی اثرات خطے کی مجموعی معیشت اور عوامی فلاح پر مرتب ہوں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سابق ایم این اے شہاب الدین خان کا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ ایڈوائزری کمیٹی کی رکنیت سے انکار