Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وزارت خارجہ کی جانب سے ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم کا باقاعدہ آغاز، عوامی و تجارتی سہولیات میں بڑی پیش رفت

وزارت خارجہ نے شہریوں اور کاروباری طبقے کی سہولت کے لیے ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس سے تصدیقی عمل تیز رفتار اور شفاف ہو جائے گا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم کا باقاعدہ آغاز، عوامی و تجارتی سہولیات میں بڑی پیش رفت

اہم ترین حقائق و پس منظر حکومت پاکستان نے پبلک سروس ڈلیوری کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزارت خارجہ میں 'ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم' کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ روایتی طور پر تعلیمی اسناد، قانونی دستاویزات، پیدائش کے سرٹیفکیٹس اور کاروباری معاہدوں کی تصدیق کے لیے شہریوں کو وزارت خارجہ اور اس کے ذیلی دفاتر کے طویل چکر لگانے پڑتے تھے، جس کے نتیجے میں نہ صرف وقت کا ضیاع ہوتا تھا بلکہ قطاروں اور پیچیدہ دفتری کارروائیوں کے باعث ایجنٹ مافیا بھی شہریوں کا استحصال کرتا تھا۔ نئے متعارف کرائے گئے آن لائن نظام کے تحت شہری اب تصدیقی عمل کے لیے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکیں گے، جہاں کیو آر کوڈ اور ڈیجیٹل دستخطوں کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق چند مراحل میں ممکن بنا دی گئی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے اس نظام کا نفاذ بین الاقوامی تجارت اور افرادی قوت کی برآمد کے لیے انتہائی مثبت ثابت ہوگا۔ بیرونی ممالک میں ملازمت کے خواہشمند افراد اور بیرون ملک کاروبار پھیلانے والے پاکستانی تاجروں کو درپیش سب سے بڑی رکاوٹ تجارتی کاغذات اور اسناد کی تاخیر سے تصدیق تھی۔ کلیار ٹریڈرز اور دیگر برآمدی اداروں کے مطابق اس اقدام سے عالمی تجارتی معاہدوں کی قانونی حیثیت کی توثیق بغیر کسی تاخیر کے ہو سکے گی۔ دستاویزات کی جلد تصدیق سے تجارتی تنازعات میں کمی واقع ہوگی اور کاروباری لاگت میں واضح کمی دیکھی جائے گی۔ مزید برآں، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے قانونی امور نمٹانا اور زرمبادلہ کی ترسیل سے جڑے کاغذی تقاضے پورے کرنا پہلے سے کہیں زیادہ سہل ہو جائے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق یہ اقدام شفافیت کے فروغ اور بدعنوانی کے خاتمے کی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد شہریوں کے لیے براہ راست اور محفوظ رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پورٹل نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہے، جس سے جعل سازی کے امکانات مکمل طور پر ختم ہو جائیں گے۔ دوسری جانب کاروباری برادری، قانونی ماہرین اور عوامی حلقوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے طویل عرصے سے زیر التوا اصلاحات کی سمت ایک سنگ میل قرار دیا ہے۔ تاجر تنظیموں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس نظام کو سفارت خانوں کی سطح پر بھی مکمل طور پر فعال کیا جائے گا تاکہ سمندر پار پاکستانیوں کو سفری زحمت نہ اٹھانی پڑے۔

مستقبل کا منظرنامہ ماہرین کے مطابق اس ڈیجیٹل اصلاح کے اثرات آئندہ مہینوں میں مزید نمایاں ہوں گے، بالخصوص جب اس نظام کو غیر ملکی مشنز اور قونصل خانوں کے ساتھ بیک وقت مربوط کر دیا جائے گا۔ آئندہ مراحل میں دیگر وزارتوں اور صوبائی محکموں کے ساتھ اس نیٹ ورک کی توسیع سے پاکستان میں 'ای گورننس' کی بنیادیں مستحکم ہوں گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ڈیجیٹلائزیشن کے بعد پاکستان کی بین الاقوامی رینکنگ برائے 'کاروبار کرنے میں آسانی' (Ease of Doing Business) میں بہتری آئے گی، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا ملکی نظام پر اعتماد بڑھے گا۔ حکومت کی جانب سے خدمات کی مسلسل نگرانی اس نظام کی طویل مدتی کامیابی کے لیے ناگزیر رہے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وزارت خارجہ کی جانب سے ڈیجیٹل اٹیسٹیشن سسٹم کا باقاعدہ آغاز، عوامی و تجارتی سہولیات میں بڑی پیش رفت