لاہور ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کی سنگین خامی: جعلی ٹکٹ پر بین الاقوامی لاؤنج میں داخل ہونے والا شخص گرفتار
لاہور ایئرپورٹ پر ایف آئی اے نے جعلی ٹکٹ پر انٹرنیشنل ڈپارچر ایریا میں داخل ہونے والے شخص کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس واقعہ نے ہوائی اڈے کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کے موثر انتظامات اس وقت شدید تنقید کی زد میں آ گئے جب فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ایک کارروائی کے دوران جعلی ٹکٹ کی بنیاد پر بین الاقوامی ڈپارچر لاؤنج میں داخل ہونے والے ایک شخص کو دبوچ لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، ملزم نے انتہائی مہارت سے ایک جعلی بین الاقوامی پرواز کا ٹکٹ تیار کیا اور ایئرپورٹ کے سخت حفاظتی حصار کو عبور کرتے ہوئے امیگریشن اور کسٹم کے بنیادی مراحل سے گزرنے کی کوشش کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر تعینات ایفی آئی اے امیگریشن اور سیکیورٹی عملے کو اس وقت شک گزرا جب مذکورہ شخص کی سفری دستاویزات اور اس کے حرکات و سکنات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ تلاشی لینے اور ٹکٹ کی جانچ پڑتال کرنے پر معلوم ہوا کہ ٹکٹ جعلی تھا اور اس پر درج پرواز کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ واقعہ کے فوراً بعد سیکیورٹی اداروں نے ملزم کو تحویل میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا جہاں اس سے مزید بازپرس جاری ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات
اس نوعیت کے سیکیورٹی نقائص نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنتے ہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستانی ہوائی اڈوں اور ایوی ایشن انڈسٹری کی ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ عالمی سطح پر سول ایوی ایشن کے ادارے ایئرپورٹس کی سیکیورٹی کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور کسی بھی قسم کی غفلت یا سیکیورٹی کی خلاف ورزی کے نتیجے میں فضائی کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایئرپورٹ سیکیورٹی پر اٹھنے والے سوالات ملک میں سیاحت کے فروغ اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کے بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر غیر مصدقہ یا جعلی دستاویزات کے ذریعے افراد اندرونی حصوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو اس سے سیکیورٹی کے نظام پر بیرونی دباؤ بڑھتا ہے اور انتظامی اخراجات میں بھی اضافہ کرنا پڑتا ہے تاکہ مزید سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے جا سکیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
واقعے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اور ایوی ایشن سیکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے اعلیٰ حکام نے ہنگامی بنیادوں پر اجلاس طلب کر کے صورتحال کا جائزہ لیا ہے۔ ابتدائی طور پر متعلقہ ڈیوٹی پر موجود عملے کی غفلت کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ملزم سیکیورٹی کے اتنے کڑے حصار اور متعدد چیک پوسٹوں کو دھوکہ دینے میں کیسے کامیاب ہوا۔
ایف آئی اے ترجمان کا کہنا ہے کہ قانون کی گرفت سے کوئی نہیں بچ سکتا اور اس بات کی تہہ تک پہنچا جائے گا کہ آیا اس شخص کے پیچھے کوئی باقاعدہ انسانی اسمگلنگ یا جعلی ٹکٹ مافیا ملوث ہے یا نہیں۔ تاجر برادری اور سول سوسائٹی نے بھی اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایئرپورٹس پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے اداروں کو مزید پیشہ ورانہ اور جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ اس قسم کے سقم کا ہمیشہ کے لیے سدباب ہو سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ
آئندہ کے لائحہ عمل کے طور پر حکومت اور متعلقہ اداروں نے علامہ اقبال انٹرنیشنل سمیت ملک بھر کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ داخلی راستوں پر بائیو میٹرک تصدیق اور ڈیجیٹل اسکیننگ کے عمل کو مزید تیز کیا جا رہا ہے تاکہ بغیر تصدیق شدہ ٹکٹ یا دستاویزات کے کسی بھی فرد کا داخلہ ناممکن بنایا جا سکے۔
اس واقعے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وزارتِ داخلہ اور ایوی ایشن ڈویژن مشترکہ طور پر ایک جامع سیکیورٹی آڈٹ رپورٹ تیار کریں گے، جس کی روشنی میں ایئرپورٹ سیکیورٹی پروٹوکولز میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ ایف آئی اے نے عزم ظاہر کیا ہے کہ گرفتار ملزم کے تمام سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا تاکہ آئندہ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.