Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

فاروق ستار کا ایم ڈی کیٹ امتحانات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ

سیاسی رہنما فاروق ستار نے ایم ڈی کیٹ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور میرٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

فاروق ستار کا ایم ڈی کیٹ امتحانات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ

اہم ترین حقائق و پس منظر موجودہ تعلیمی سیزن کے دوران میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے منعقد ہونے والے ایم ڈی کیٹ (MDCAT) کے امتحانات ایک بار پھر شدید تنازعات کی زد میں آ گئے ہیں۔ معروف سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے امتحانی عمل کے دوران سامنے آنے والی سنگین بے ضابطگیوں، پیپر لیک ہونے کی افواہوں اور انتظامی نااہلی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملک کے مختلف امتحانی مراکز میں امیدواروں کو شدید انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پرچہ جات کے وقت پر نہ پہنچنے اور سوالات کے معیار پر بھی سوالیہ نشانات اٹھائے گئے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پاکستان بھر میں لاکھوں طلباء ہر سال میڈیکل کے شعبے میں داخلے کے لیے اس امتحان میں شرکت کرتے ہیں، لیکن بار بار امتحانی نظام کا متنازع ہونا طلباء اور ان کے والدین کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث بن رہا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات تعلیمی شعبے میں اس قسم کی بے ضابطگیوں کے بالواسطہ اثرات ملک کی معیشت اور متوسط طبقے پر بہت گہرے پڑتے ہیں۔ ایک غریب اور متوسط گھرانے کا طالب علم ایم ڈی کیٹ کی تیاری کے لیے مہنگی اکیڈمیوں، کوچنگ سینٹرز اور داخلہ فیس کی مد میں لاکھوں روپے خرچ کرتا ہے۔ جب امتحانی نظام میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر نتائج دینے میں ناکام رہتا ہے، تو نہ صرف نوجوان نسل کا قیمتی سرمایہ اور وقت ضائع ہوتا ہے بلکہ ملک کے تعلیمی و طبی شعبے کا معاشی انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔ معیاری ڈاکٹروں کی تیاری کا عمل رکنے سے صحت کے شعبے میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا فقدان پیدا ہوتا ہے، جو کہ طویل مدت میں قومی معیشت اور انسانی وسائل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ڈاکٹر فاروق ستار نے اپنے ایک ہنگامی بیان میں کہا ہے کہ نظام کی یہ مبینہ غفلت ناقابل برداشت ہے اور اس سے نوجوان نسل کا مستقبل تاریک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے عمل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور جنم لینے والے اس بحران کے تمام ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ دوسری جانب، متعلقہ تعلیمی بورڈز اور ٹیسٹنگ ایجنسیز کے حکام نے روایتی مؤقف اپناتے ہوئے الزامات کی تردید کی ہے اور امتحانات کے شفاف انعقاد کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم، طلباء تنظیموں اور والدین کی طرف سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، جو اس بات کا غماز ہے کہ متعلقہ اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ اگر موجودہ صورتحال میں حکومت اور متعلقہ حکام نے فوری اور موثر اقدامات نہ کیے تو تعلیمی نظام کے خلاف یہ عدم اعتماد مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس معاملے پر فوری طور پر ایک اعلیٰ سطح کی جوڈیشل انکوائری کمیٹی تشکیل دی جانی چاہیے جو پیپر سیٹنگ سے لے کر نتائج کے اعلان تک کے پورے عمل کی چھان بین کرے۔ شفافیت کی بحالی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ آئندہ برسوں میں اس قسم کے تنازعات سے بچا جا سکے اور ملک کے ہونہار طلباء کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
فاروق ستار کا ایم ڈی کیٹ امتحانات میں بے ضابطگیوں کا انکشاف اور فوری تحقیقات کا مطالبہ