چینی سرمایہ کاری نے پاکستان کو توانائی کے شدید بحران سے نکالا، وفاقی وزیر احسن اقبال کا اعتراف
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین کی بروقت سرمایہ کاری نے پاکستان میں توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے اور صنعتی سرگرمیاں بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے ایک اعلیٰ سطحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت چینی سرمایہ کاری نے پاکستان کو اندھیروں سے نکالنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ سال 2013 میں ملک بدترین لوڈشیڈنگ اور بجلی کے سنگین تعطل کی لپیٹ میں تھا، جس کے باعث نہ صرف معیشت مفلوج تھی بلکہ صنعتی شعبہ بندش کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ ایسے نازک موڑ پر چینی قیادت اور کاروباری اداروں نے اربوں ڈالر کے توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی، جن کی بدولت قلیل عرصے میں ہزاروں میگاواٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔ اس اقدام نے ملک کو طویل المدتی بلیک آؤٹ سے بچانے میں غیر معمولی مدد فراہم کی۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین کے تجزیے کے مطابق توانائی کی فراہمی میں تسلسل کسی بھی صنعتی اور تجارتی نظام کی بقا کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے بڑے برآمدی شعبوں خصوصاً ٹیکسٹائل، لیدر، سیمنٹ اور اسٹیل انڈسٹری کو توانائی بحران کے حل سے زبردست ریلیف ملا۔ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافے سے صنعتی پہیہ بحال ہوا جس نے برآمدات کے استحکام اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد دی۔ تاہم تجارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگرچہ پیداواری قلت ختم ہو چکی ہے، لیکن کپیسٹی پیمنٹس اور ڈالر کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے صنعتی و تجارتی صارفین کے لیے ٹیرف میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تجارتی منڈیوں اور عام مارکیٹ میں بجلی کی بلند قیمتیں مینوفیکچرنگ لاگت کو مسلسل بڑھا رہی ہیں، جس کے اثرات عام صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس امر پر زور دیا کہ سی پیک کا اگلا مرحلہ بزنس ٹو بزنس روابط، مشترکہ منصوبوں اور زراعت و ٹیکنالوجی کے فروغ پر مرکوز ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق حکومت اب توانائی کے ترسیلی نظام کی بہتری اور گردشی قرضے کے حجم کو کم کرنے کے لیے بنیادی اصلاحات نافذ کر رہی ہے۔ دوسری جانب ملکی صنعت کاروں اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ پیداواری صلاحیت کا بڑھنا خوش آئند ہے مگر اس وقت تک حقیقی معاشی نمو ممکن نہیں جب تک ٹیرف کو خطے کے دیگر ممالک کے برابر لاتے ہوئے سستی توانائی مہیا نہ کی جائے۔ تاجر تنظیموں نے شفافیت اور مقامی خام مال کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر بھی زور دیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دور میں پاکستان کے معاشی استحکام کا دارومدار توانائی کے سستے اور متبادل ذرائع مثلاً شمسی توانائی، پن بجلی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کو چینی اور دیگر بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے ساتھ مل کر قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ اور ترسیلی نظام کے نقصانات کو روکنے کے لیے عملی حکمت عملی اپنانی ہوگی۔ سی پیک فیز ٹو کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کا قیام اور ان زونز کو بلا تعطل و سستی بجلی کی فراہمی ملکی معیشت کی رفتار تیز کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp