چلاس میں رہائشی مکان میں آتشزدگی کا المناک سانحہ، کمسن بچی جاں بحق اور خاتون شدید زخمی
گلگت بلتستان کے ضلعی ہیڈکوارٹر چلاس میں ایک رہائشی مکان میں اچانک آگ بھڑک اٹھنے سے پانچ سالہ بچی جھلس کر جاں بحق جبکہ اس کی والدہ شدید زخمی ہو گئیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے ہیڈکوارٹر چلاس میں ایک رہائشی مکان میں اچانک آتشزدگی کا دلدوز واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں پانچ سالہ کمسن بچی موقع پر دم توڑ گئی جبکہ اس کی والدہ شدید جھلس کر تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔ عینی شاہدین اور ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ اہل خانہ کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔ لکڑی کے روایتی تعمیراتی مواد اور خشک موسم کی وجہ سے شعلوں نے چند ہی منٹوں میں پورے مکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ برقی شارٹ سرکٹ یا سردی سے بچاؤ کے لیے جلائے جانے والے روایتی ہیٹر کے باعث پیش آیا۔ مقامی شہریوں اور ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں، تاہم آگ کے شدید پھیلاؤ کے باعث معصوم بچی کو بچایا نہ جا سکا۔
تجارتی و معاشی اثرات اس افسوسناک واقعے نے خطے میں تعمیراتی سازوسامان، بجلی کے گھریلو آلات اور فائر سیفٹی ایکوپمنٹ کی منڈی سے متعلق بنیادی خامیاں بے نقاب کی ہیں۔ شمالی علاقہ جات میں سردیوں کے دوران ناقص معیار کی وائرنگ، غیر معیاری الیکٹرک اور گیس ہیٹرز کی کھلے عام فروخت ایسے سانحات کا بڑا سبب بن رہی ہے۔ اگرچہ ریٹیل مارکیٹ میں سستے اور غیر معیاری آلات سستے داموں دستیاب ہوتے ہیں، لیکن معیاری اور تصدیق شدہ فائر پروف آلات کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے حادثات نہ صرف ایک غریب یا متوسط گھرانے کی جمع پونجی خاکستر کر دیتے ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں انشورنس تحفظ کے فقدان کے باعث متاثرہ خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہو جاتے ہیں۔ خطے کی تعمیراتی صنعت پر بھی یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جدید آگ سے محفوظ میٹریل کو فروغ دے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ زخمی خاتون کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ریجنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ مقامی انجمن تاجران اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ضلعی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ تاجر برادری کا مؤقف ہے کہ چلاس جیسے اہم اور حساس تجارتی مرکز میں اب تک جدید فائر ٹینڈرز اور برن سینٹرز کا فعال نہ ہونا ریاستی اداروں کی سنگین لاپرواہی ہے۔ عوامی نمائندوں نے متاثرہ خاندان کی فوری مالی معاونت اور بحالی کے لیے حکومتی پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان کے شہری اور مضافاتی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور روایتی لکڑی کی تعمیرات کے پیش نظر جامع فائر سیفٹی کوڈز کا نفاذ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر حکومت نے مارکیٹ میں غیر معیاری برقی اشیاء کی ترسیل پر پابندی نہ لگائی اور بلڈنگ بائی لاز کو سخت نہ کیا تو مستقبل میں بھی ایسے المناک واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ بلدیاتی سطح پر ہنگامی امداد کے نظام کو اپ گریڈ کرنا اور عوام میں آگ بجھانے کے ابتدائی طریقوں کی آگاہی مہم چلانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp