سی ڈی اے کا ہفتہ وار بازار کے اسٹال ہولڈرز کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ، تاجر برادری میں تشویش کی لہر
سی ڈی اے نے وفاقی دارالحکومت کے ہفتہ وار بازار کے اسٹال ہولڈرز کے مطالبات مسترد کر دیے ہیں، جس کے بعد تاجر برادری میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی انتظامیہ نے ہفتہ وار بازاروں کے اسٹال ہولڈرز کی جانب سے پیش کی گئی درخواست کو باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسٹال ہولڈرز نے الاٹمنٹ کی شرائط میں نرمی، کرایوں کے طریقہ کار میں رعایت اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ریلیف کی استدعا کی تھی۔ سی ڈی اے کے شعبہ بازار نے متعلقہ قوانین اور قواعد و ضوابط کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ بازاروں کا انتظام شفافیت اور مقررہ پالیسی کے تحت چلایا جا رہا ہے، لہٰذا مروجہ ضابطوں سے ہٹ کر کسی بھی قسم کی غیر معمولی رعایت دینا ممکن نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد برسوں سے کاروبار کرنے والے اسٹال مالکان میں بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات ہفتہ وار سستے بازار اسلام آباد کے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں سبزیاں، پھل، اشیائے خوردونوش اور گھریلو استعمال کی اشیاء عام مارکیٹ کی نسبت رعایتی نرخوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ سی ڈی اے کے اس سخت فیصلے کے نتیجے میں سینکڑوں چھوٹے تاجروں کا معاشی مستقبل غیریقینی صورتحال کا شکار ہو گیا ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر الاٹمنٹ کی فیسوں یا ضوابط پر سختی برقرار رہی تو تاجروں کے اخراجات بڑھ جائیں گے، جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین پر مہنگائی کی صورت میں منتقل ہوگا۔ مزید برآں، ریٹیل سپلائی چین متاثر ہونے سے شہریوں کے لیے متبادل سستی خریداری کے مواقع محدود ہونے کا شدید اندیشہ ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل سی ڈی اے انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ہفتہ وار بازاروں کا بنیادی مقصد عوام الناس کو شفاف طریقے سے معیاری اور سستی اشیاء فراہم کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض اسٹال ہولڈرز طویل عرصے سے الاٹمنٹ قوانین میں ایسی تبدیلیاں چاہتے تھے جو شفافیت کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتیں، اس لیے مفاد عامہ کے تحت درخواست مسترد کی گئی۔ دوسری جانب اسٹال ہولڈرز اور تاجر نمائندوں نے اس فیصلے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی و دیگر اخراجات کی وجہ سے ان کا کاروبار پہلے ہی مندی کا شکار ہے۔ تاجروں کا مؤقف ہے کہ انتظامیہ کو ان کے زمینی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے تھا۔
مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں تاجر نمائندوں کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ حکومتی فورمز اور عدالت سے رجوع کرنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اگر سی ڈی اے انتظامیہ اور تاجر برادری کے درمیان باہمی مذاکرات کے ذریعے کوئی درمیانی راہ نہ نکالی گئی تو سستے بازاروں میں ہڑتال یا کاروبار کی بندش کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس تنازع کے طول پکڑنے سے شہریوں کو اشیائے ضروریہ کی منصفانہ قیمتوں پر فراہمی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر وفاقی وزارت داخلہ کو اس معاملے میں کردار ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp