Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

ایک بڑی سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری ہیں: بیرسٹر گوہر خان کا انتباہ

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی جماعت کو سیاسی منظرنامے سے غائب کرنے کی دانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں، جس سے ملکی استحکام خطرے میں ہے۔

ایک بڑی سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری ہیں: بیرسٹر گوہر خان کا انتباہ

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ملکی سیاسی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی ایک مقبول اور نمائندہ سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے اور اسے سیاسی عمل سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کی دانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ جماعت کے رہنماؤں، کارکنوں اور مینڈیٹ کے خلاف اٹھائے جانے والے غیر معمولی اقدامات ملکی جمہوری عمل کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پارلیمانی اور عوامی سطح پر اس قسم کے حربے محض ایک جماعت کو نقصان نہیں پہنچا رہے بلکہ اس کے نتیجے میں ملکی سیاسی و آئینی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی بے یقینی کے براہ راست اثرات ملکی معیشت، مالیاتی منڈیوں اور عمومی تجارتی سرگرمیوں پر تسلسل کے ساتھ مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کار سیاسی محاذ آرائی اور عدم استحکام کے باعث محتاط طرز عمل اختیار کیے ہوئے ہیں، جس سے کاروباری حجم پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ روپے کی قدر کے استحکام، افراط زر کی شرح پر قابو پانے اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے بنیادی شرط سیاسی استحکام مانی جاتی ہے۔ کلیار ٹریڈرز کے تجارتی و تجزیاتی گوشواروں کے مطابق ملک میں پیدا ہونے والا سیاسی تناؤ نجی شعبے کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کو منجمد کر رہا ہے، جس کے باعث ہول سیل اور ریٹیل منڈیوں میں سپلائی چینز اور قیمتوں کا توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل بیرسٹر گوہر خان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جمہوریت کی روح شفاف انتخابات اور تمام سیاسی قوتوں کو مساوی حقوق کی فراہمی میں پنہاں ہے۔ دوسری جانب حکومتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ قانون کی بالادستی بلا تفریق تمام شہریوں اور جماعتوں پر یکساں لاگو ہوتی ہے اور کسی کے خلاف بھی انتقامی کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ تمام تر اقدامات عدالتی فیصلوں اور ریاستی قوانین کی روشنی میں کیے جا رہے ہیں۔ تاجر برادری اور چیمبرز آف کامرس کے نمائندوں نے بھی تمام متعلقہ حلقوں پر زور دیا ہے کہ ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے تاکہ معاشی بحالی کا عمل متاثر نہ ہو۔

مستقبل کا منظرنامہ مبصرین کے مطابق اگر سیاسی تناؤ اور اداروں کے مابین موجود خلیج کو مذاکرات کے ذریعے دور نہ کیا گیا تو آئندہ چند ہفتوں میں آئینی و پارلیمانی بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ عدالتی غیر جانبداری، شفافیت اور سنجیدہ سیاسی مکالمے کے آغاز میں مضمر ہے۔ بصورت دیگر یہ طویل المدتی عدم استحکام بیرونی مالیاتی اداروں، کثیر الجہتی معاہدوں اور ملکی تجارتی ماحول کے لیے سخت امتحان ثابت ہوگا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
ایک بڑی سیاسی جماعت کو دیوار سے لگانے کی کوششیں جاری ہیں: بیرسٹر گوہر خان کا انتباہ