Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

اسپیکر ایاز صادق سے بیرسٹر گوہر کی ملاقات، گرفتار ارکان پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈرز کے اجرا کا مطالبہ

بیرسٹر گوہر نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کر کے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔

اسپیکر ایاز صادق سے بیرسٹر گوہر کی ملاقات، گرفتار ارکان پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈرز کے اجرا کا مطالبہ

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمانی سیاست کے محاذ پر گرمی بدستور برقرار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ان کے چیمبر میں باضابطہ ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا بنیادی ایجنڈا پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ان ارکان قومی اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز کا اجرا تھا جو حالیہ سیاسی کشیدگی اور مقدمات کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے اسپیکر کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ پارلیمان سپریم ادارہ ہے اور عوام کے منتخب نمائندوں کو ایوان کی کارروائی سے دور رکھنا جمہوری تقاضوں کے صریح منافی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات خوشگوار مگر سنجیدہ ماحول میں ہوئی، جہاں ایوان کی حرمت اور ارکان اسمبلی کے بنیادی حقوق پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

تجارتی و معاشی اثرات ملک میں سیاسی عدم استحکام اور پارلیمانی تلخیاں براہ راست قومی معیشت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ مالیاتی مارکیٹوں اور تاجر برادری کا ماننا ہے کہ جب تک ملک کے اندر پارلیمانی استحکام قائم نہیں ہوتا، تجارتی پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہنا ناممکن ہے۔ قانون ساز ادارے میں محاذ آرائی اور گرفتاریوں کی فضا کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ اور ملکی کرنسی پر منفی دباؤ بڑھتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارے اور مقامی سرمایہ کار سیاسی تناؤ کی صورت میں محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں، جس سے صنعتی سرگرمیاں اور ریٹیل سیکٹر سست روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کاروباری طبقات نے اس امر پر زور دیا ہے کہ اسمبلی کے امور کو خوش اسلوبی سے چلا کر سیاسی بے یقینی ختم کی جائے تاکہ مارکیٹ میں استحکام آ سکے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی پورے ایوان کے کسٹوڈین ہیں اور تمام ارکان کی نمائندگی کرنا ان کا آئینی فرض ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گرفتار ارکان کو اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کا حق ملنا چاہیے تاکہ حلقوں کے مسائل اٹھائے جا سکیں۔ دوسری جانب، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بیرسٹر گوہر کے مطالبات کو غور سے سنا اور مؤقف اپنایا کہ وہ پارلیمانی قواعد و ضوابط اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کر رہے ہیں۔ حکومتی حلقوں کی رائے ہے کہ قانون کی بالادستی سب کے لیے برابر ہے اور قانونی کارروائیوں کو سیاسی مفادات کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے قانونی ماہرین سے تفصیلی مشاورت کے بعد پروڈکشن آرڈرز کے حوالے سے حتمی پیش رفت متوقع ہے۔ اگر اسپیکر قومی اسمبلی یہ احکامات جاری کرتے ہیں تو اس سے پارلیمانی تلخیوں میں کسی حد تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ تاہم، بصورت دیگر اپوزیشن کی جانب سے ایوان کے اندر اور باہر احتجاج میں شدت آنے کا اندیشہ موجود ہے۔ سیاسی اور قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پارلیمانی جمہوریت کے تسلسل کے لیے فریقین کو افہام و تفہیم کا راستہ اپنانا ہوگا تاکہ ریاست کے اہم امور اور قانون سازی کا عمل رکاوٹ کے بغیر جاری رہ سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
اسپیکر ایاز صادق سے بیرسٹر گوہر کی ملاقات، گرفتار ارکان پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈرز کے اجرا کا مطالبہ