Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ غیر آئینی ہے، عدالت میں چیلنج کریں گے: بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ صریحاً غیر آئینی اقدام ہوگا، جسے عدالت میں بھرپور انداز میں ثابت اور چیلنج کیا جائے گا۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ غیر آئینی ہے، عدالت میں چیلنج کریں گے: بیرسٹر گوہر

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں کسی بھی قسم کے گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی آئینی گنجائش موجود نہیں ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کا آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 صوبائی معاملات میں وفاق کی براہ راست مداخلت کے حوالے سے نہایت کڑے ضوابط عائد کرتے ہیں، اور موجودہ حالات میں ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں جس کے تحت منتخب صوبائی حکومت کو معطل یا غیر مؤثر کیا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر وفاق نے کوئی ماورائے آئین اقدام اٹھایا تو اسے اعلیٰ عدلیہ میں قانونی و آئینی دلائل کی روشنی میں باطل ثابت کیا جائے گا۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسلام آباد اور خیبر پختونخوا کی قیادت کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور سیاسی حلقوں میں سخت فیصلوں کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی عدم استحکام اور مرکز و صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش براہ راست ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ پشاور، راولپنڈی اور اسلام آباد کی کاروباری برادری کے مطابق غیر یقینی کی اس کیفیت نے بین الصوبائی تجارت، ٹرانسپورٹ کے نیٹ ورک اور اجناس کی ترسیل کو شدید سست کر دیا ہے۔ ہول سیل مارکیٹوں میں سرمایہ کار نیا تجارتی سودا کرنے سے گریزاں ہیں جبکہ ریٹیلرز کے نزدیک غیر متوقع بندشوں کے خوف سے صارفین کی خریداری میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ مالیاتی ماہرین کا تجزیہ ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں کوئی غیر معمولی آئینی اقدام نافذ ہوتا ہے تو اس سے علاقائی اقتصادی راہداری، پاک افغان باہمی تجارت اور کسٹمز ریونیو کو شدید دھچکا پہنچے گا، جس کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہونے سے روزمرہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل تحریک انصاف کی قانونی و سیاسی قیادت کا موقف ہے کہ عوامی مینڈیٹ کو کسی انتظامی حربے یا گورنر راج کے ذریعے دبانا وفاقیت کی روح کے خلاف ہے۔ پارٹی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ ماضی میں بھی غیر آئینی فیصلوں کو کالعدم قرار دے چکی ہے اور اس بار بھی انصاف کا بول بالا ہوگا۔ دوسری جانب وفاقی وزرا کا مؤقف ہے کہ امن و امان کا قیام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنا حکومت کی اولین آئینی ذمہ داری ہے، اور اگر کسی صوبے کی انتظامی مشینری وفاق کے خلاف استعمال ہوگی تو ریاست اپنے اختیارات کے تحت اقدام کرنے میں حق بجانب ہوگی۔ دوسری طرف تاجر تنظیموں نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست کی نذر معیشت کو نہ کیا جائے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند روز میں سیاسی اور قانونی میدان میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔ اگر وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا کے حوالے سے کوئی انتظامی سمری منظور کی تو اس کا فوری اثر عدالت عظمیٰ کے بینچوں کے سامنے سماعت کی صورت میں دکھائی دے گا۔ قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ عدالتی فورم پر وفاق کے لیے گورنر راج کا جواز پیش کرنا نہایت پیچیدہ امتحان ثابت ہوگا۔ دوسری طرف مارکیٹ کے اندر استحکام کی بحالی تک سرمایہ کار اپنے مالی فیصلوں کو مؤخر رکھیں گے، جس سے مجموعی قومی معاشی شرح نمو پر دباؤ برقرار رہے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ غیر آئینی ہے، عدالت میں چیلنج کریں گے: بیرسٹر گوہر