بیرسٹر گوہر خان کا لانگ مارچ کے حوالے سے حکومتی پروپیگنڈا مسترد، معاشی استحکام پر گہرے اثرات کا خدشہ
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے لانگ مارچ سے متعلق حکومتی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سیاسی تناؤ کے ملکی معیشت پر منفی اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
حالیہ دنوں میں ملکی سیاسی منظر نامے پر اس وقت شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی جنگ عروج پر پہنچ گئی۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے ایک بیان میں واضح کیا کہ ایک حکومتی ٹولہ دانستہ طور پر ان کے مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگنڈا کرنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لیکن حکومتی ایوانوں میں خوف کی فضا اس قدر طاری ہے کہ حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سیاسی کشمکش نے ملک کے اہم ترین شہروں بالخصوص دارالحکومت میں انتظامی ہلچل مچا دی ہے جہاں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، دونوں جانب سے سخت بیانات اور تصادم کی فضا نے عام شہریوں اور کاروباری طبقے کو شدید ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات
ملک میں جاری اس سیاسی عدم استحکام اور لانگ مارچ کی کالز کے براہ راست اثرات تجارت اور معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال برقرار ہے جبکہ سرمایہ کار کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے پیش نظر اپنے فیصلے مؤخر کرنے پر مجبور ہیں۔ کاروباری مراکز، ہول سیل مارکیٹس اور ریٹیل سیکٹر میں اس گہراؤ کا اثر خریدو فروخت پر پڑا ہے جہاں یومیہ بنیادوں پر ٹرانزیکشنز کا حجم کم ہو رہا ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشات کے پیش نظر اشیائے ضروریہ اور خام مال کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت مزید کسی بھی سیاسی ہلچل یا دھرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ اس سے مہنگائی میں اضافے اور صنعتی پیداوار کے رکنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
دوسری جانب حکومتی ترجمکان اور وزراء نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ریاست کی رٹ ہر صورت برقرار رکھی جائے گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی صفوں کا مؤقف ہے کہ لانگ مارچ کا مقصد ملک میں معاشی ترقی کے سفر کو سبوتاژ کرنا اور غیر یقینی کی فضا پیدا کرنا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پروپیگنڈا مہم چلا رہی ہے اور ان کا احتجاج پرامن اور آئین کے دائرے میں ہوگا۔ تاجر برادری اور ایوانِ صنعت و تجارت کے نمائندوں نے دونوں فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ کر مذاکرات کی میز پر آئیں تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ
آئندہ چند روز ملک کی سیاسی و معاشی سمت کے تعین میں انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر دونوں فریقین نے لچک کا مظاہرہ نہ کیا تو تصادم کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جو کہ جمہوریت اور معیشت دونوں کے لیے خطرناک ہے۔ تجارتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ سیاسی تناؤ کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ ملک میں کاروباری اعتماد بحال ہو سکے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اگر فوری طور پر مفاہمت کی کوئی راہ نہ نکلی تو ملک ایک طویل اور پیچیدہ سیاسی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے جس کے دور رس معاشی نتائج برآمد ہوں گے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.