Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ کے پی پر عائد کرنا بے بنیاد ہے: بیرسٹر گوہر

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پر مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ ڈالنا درست نہیں۔ مزید چند راؤنڈز ہوتے تو معاملات مثبت سمت میں طے پا سکتے تھے۔

مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ کے پی پر عائد کرنا بے بنیاد ہے: بیرسٹر گوہر

اہم ترین حقائق و پس منظر موجودہ ملکی سیاسی منظر نامے میں حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کے درمیان جاری چپقلش کے تناظر میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کا تازہ ترین بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے ہونے والے مذاکراتی دور کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں یہ بحث گرم ہے کہ آیا یہ مذاکرات درست سمت میں آگے بڑھ رہے تھے یا ان کا انجام پہلے سے طے شدہ تھا۔ اس پس منظر میں بیرسٹر گوہر نے ان تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے جن میں یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی ہٹ دھرمی یا غیر لچکدار رویے کی وجہ سے بات چیت کا عمل نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا۔

تجارتی و معاشی اثرات ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام اور مذاکرات کی ناکامی کی افواہوں کا براہ راست اثر معاشی اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار برادری ہمیشہ سیاسی مفاہمت اور استحکام کو ترجیح دیتی ہے تاکہ تجارتی فیصلوں میں شفافیت اور تسلسل برقرار رہے۔ سیاسی محاذ آرائی اور مذاکرات کے دروازے بند ہونے سے نہ صرف اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ آتا ہے بلکہ افراط زر اور مہنگائی کے دباؤ تلے پسنے والی عوام کے لیے بھی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ تجارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی قائدین ہوش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میز پر بیٹھنے کو ترجیح دیں تو اس سے معاشی اعشاریوں پر بھی گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل بیرسٹر گوہر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذاکرات کے حوالے سے جو بیانیہ بنایا جا رہا ہے وہ حقائق کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک یا دو مزید راؤنڈز ہو جاتے تو یہ معاملہ کسی منطقی انجام یا قابل قبول حل تک پہنچ سکتا تھا۔ پی ٹی آئی قیادت کا اصرار ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مفاہمت اور آئین کے دائرے میں رہ کر بات چیت کو ترجیح دی ہے، تاہم فریقِ مقابل کی جانب سے خلوص نیت کا فقدان نظر آیا۔ دوسری جانب حکومتی اتحادی جماعتوں کا مؤقف اس کے برعکس ہے اور ان کا الزام ہے کہ اپوزیشن کا رویہ شروع دن سے ہی غیر جمہوری اور اڑیل رہا ہے جس کی وجہ سے مفاہمت کی تمام کوششیں بار آور نہ ہو سکیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران ملکی سیاست کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ فریقین ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سیاسی کشیدگی میں طوالت سے نہ صرف جمہوریت کو نقصان پہنچے گا بلکہ ریاستی ستون بھی کمزور ہوں گے۔ اگرچہ فی الحال تلخیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم پس پردہ رابطے اب بھی بحران کے حل کی کوئی نئی راہ نکال سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد کو مقدم رکھیں اور باہمی بات چیت کے ذریعے ہی مسائل کا مستقل حل تلاش کریں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ وزیراعلیٰ کے پی پر عائد کرنا بے بنیاد ہے: بیرسٹر گوہر