Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں پرتشدد مظاہروں کے بعد ایف سی تعینات، تجارتی سرگرمیاں مفلوج

خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی کے باعث ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں پرتشدد مظاہروں کے بعد سیکیورٹی فورسز تعینات کر دی گئی ہیں، جس سے کاروبار زندگی شدید متاثر ہوا ہے۔

ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں پرتشدد مظاہروں کے بعد ایف سی تعینات، تجارتی سرگرمیاں مفلوج

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کی اہم تجارتی تحصیل باڑہ میں سیاسی تناؤ کے باعث حالات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ ممکنہ ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کی افواہوں کے ردعمل میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد باڑہ بازار مسلسل بند ہے اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ یہ علاقہ صوبائی اسمبلی کے رکن سہیل آفریدی کا انتخابی حلقہ ہے، جہاں گزشتہ روز مشتعل مظاہرین نے شدید احتجاج کیا۔ امن و امان کی نازک صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے پولیس اور فرنٹیئر کور کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے، جس کے بعد علاقے میں عملی طور پر کرفیو جیسا سماں پیدا ہو چکا ہے اور اہم شاہراہوں پر ناکابندی سخت کر دی گئی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات باڑہ تاریخی طور پر خیبرپختونخوا اور پاک افغان سرحدی تجارت کا ایک حساس و کلیدی تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ مسلسل شٹر ڈاؤن ہڑتال اور سیکیورٹی فورسز کے سخت محاصرے کے باعث نہ صرف باڑہ مارکیٹ بلکہ متصل دیہی علاقوں کی روزمرہ معیشت بھی شدید جمود کا شکار ہو گئی ہے۔ تجارتی مراکز کی غیر معینہ مدت کے لیے بندش سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں، ریٹیلرز اور ہول سیل ڈیلرز کو کروڑوں روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ نقل و حمل معطل ہونے کے سبب اشیائے خوردونوش، خاص طور پر سبزیوں، ادویات اور پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر منڈیوں میں قیمتوں کے غیر مستحکم ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل مقامی تاجر برادری نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امن و امان کی خرابی کا سب سے بڑا خمیازہ ہمیشہ معاشی طبقے کو بھگتنا پڑتا ہے۔ تاجر نمائندوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تجارتی سرگرمیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ معاشی بحران جنم نہ لے۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام کا مؤقف ہے کہ ایف سی اور اضافی پولیس کی تعیناتی کا مقصد شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور شرپسند عناصر کی سرکوبی ہے۔ سیاسی قیادت نے بھی کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ اگر باڑہ اور گردونواح میں سیاسی بے چینی اور سیکیورٹی فورسز کی سخت پوزیشن برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات پشاور سمیت ملحقہ اضلاع کی ترسیلات اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ موجودہ بحران کا دیرپا حل محض عسکری یا سیکیورٹی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ انتظامیہ کو تمام اسٹیک ہولڈرز، بشمول سیاسی رہنماؤں اور قبائلی عمائدین، کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا راستہ اپنانا ہوگا۔ تجارتی مراکز کی بحالی اور عوام کے معاشی تحفظ کو اولین ترجیح بنائے بغیر خطے میں پائیدار استحکام کا حصول مشکل دکھائی دیتا ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں پرتشدد مظاہروں کے بعد ایف سی تعینات، تجارتی سرگرمیاں مفلوج