Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سیاسی عمل میں جبر ناقابل قبول ہے، علی محمد خان کا ملکی استحکام اور جمہوری اقدار پر زور

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے واضح کیا ہے کہ کسی سیاستدان کو جبر کے ذریعے جھکایا نہیں جا سکتا، جبکہ پائیدار ملکی ترقی کا دارومدار آئین اور جمہوریت کی پاسداری پر ہے۔

سیاسی عمل میں جبر ناقابل قبول ہے، علی محمد خان کا ملکی استحکام اور جمہوری اقدار پر زور

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر علی محمد خان نے ملک میں جاری کشیدہ سیاسی فضا اور سیاسی قیادت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے تناظر میں دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوری معاشروں میں کسی سیاستدان کی گردن پر چھری رکھ کر مرضی کے فیصلے نہیں کرائے جا سکتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیاست دانوں کے فیصلوں کا اختیار عوام کی تائید اور ان کے ضمیر کے تابع ہوتا ہے، نہ کہ بیرونی یا غیر جمہوری دباؤ کے۔ ملک کے موجودہ سیاسی منظرنامے میں جہاں سیاسی رہنماؤں کو قانونی کارروائیوں، مقدمات اور وفاداریاں تبدیل کرنے کے الزامات کا سامنا ہے، علی محمد خان کا یہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک سیاسی عمل کو اس کی اصل روح کے مطابق کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس وقت تک نہ تو نظام میں شفافیت آ سکتی ہے اور نہ ہی عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی عدم استحکام اور اقتدار کی رسہ کشی کے اثرات براہ راست ملک کے تجارتی اور معاشی ڈھانچے پر مرتب ہو رہے ہیں۔ کلیار ٹریڈرز کے تجارتی اور مالیاتی ماہرین کے مطابق، جب سیاسی منظرنامہ غیر یقینی کا شکار ہو تو مقامی صنعت کار اور غیر ملکی سرمایہ کار طویل مدتی سرمایہ کاری سے گریز کرتے ہیں۔ ملکی اسٹاک مارکیٹ، روپے کی قدر اور درآمدی و برآمدی سرگرمیاں سیاسی کشمکش کے باعث متزلزل رہتی ہیں۔ تاجر برادری کا ماننا ہے کہ سیاسی انتشار کے نتیجے میں مارکیٹ میں غیریقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل، قیمتوں کا تعین اور ہول سیل مارکیٹ کا نظم شدید متاثر ہوتا ہے۔ ریٹیلرز اور عام صارفین مہنگائی اور معاشی سست روی کی صورت میں اس سیاسی تنازع کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، جس کا فوری حل ناگزیر ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل پی ٹی آئی رہنما کا مؤقف ہے کہ جمہوری نظام کو چلانے کے لیے تمام سیاسی دھڑوں کو برابری کی سطح پر مواقع ملنے چاہئیں اور جبری اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں اور اتحادی جماعتوں کا مؤقف رہا ہے کہ تمام اقدامات آئین اور قانون کے دائرے میں کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی رہنما کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا بلکہ محض عدالتی و قانونی کارروائیوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ آزاد مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل اور سیاسی وابستگیوں کو آزادانہ ماحول فراہم کیے بغیر ملکی بحران کا پائیدار تصفیہ ممکن نہیں ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں سیاسی محاذ پر کشیدگی میں کمی یا اضافے کا انحصار مقتدر حلقوں، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مکالمے کے امکانات پر ہے۔ اگر سیاسی قوتیں باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے آئینی حدود کے اندر انتخابی اور سیاسی روڈ میپ طے کرنے میں ناکام رہیں تو ملکی معیشت پر مزید بوجھ پڑے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پائیدار معاشی بحالی کا راستہ صرف سیاسی استحکام سے ہو کر گزرتا ہے، جس کے لیے شفاف انتخابات، قانون کی یکساں بالادستی اور غیر جمہوری مداخلت کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سیاسی عمل میں جبر ناقابل قبول ہے، علی محمد خان کا ملکی استحکام اور جمہوری اقدار پر زور