دہشت گردی کا نشانہ بننے کے باوجود پی ٹی آئی پر الزامات ناقابل فہم ہیں، علی محمد خان کا پارلیمانی خطاب
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت دہشت گردی کی زد میں ہے مگر تنقید کا رخ بھی انہی کی طرف موڑا جا رہا ہے، جس سے ملک میں معاشی و سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی اسمبلی اور عوامی فورمز پر خطاب کرتے ہوئے ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر اور خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام اور ان کی سیاسی جماعت گزشتہ کئی دہائیوں سے قربانیاں دے رہے ہیں اور براہ راست دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود سیاسی مفادات کے تحت الزامات کا رخ تحریک انصاف کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی قیادت اور کارکنان مسلسل سیکیورٹی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں دہشت گردی کے خلاف قومی سطح پر ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے الزام تراشی کی سیاست قومی سلامتی کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات امن و امان کی خراب صورتحال کا براہ راست اثر ملکی معیشت بالخصوص خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے تجارتی حجم پر پڑ رہا ہے۔ پاک افغان تجارتی راہداریوں پر سیکیورٹی تعطل اور آئے روز کے واقعات نے مقامی صنعتوں، ریٹیلرز اور ہول سیل مارکیٹ کو منجمد کر دیا ہے۔ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کے باعث خطے میں نئی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جبکہ سامان کی نقل و حمل میں خطرات بڑھنے سے لاگت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ پائیدار امن کے بغیر صنعتی سرگرمیوں کا احیاء ممکن نہیں، اور موجودہ غیریقینی صورتحال نے روزگار کے مواقع محدود کر دیے ہیں جس سے عوامی سطح پر معاشی مشکلات شدید تر ہو چکی ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل علی محمد خان کے اس بیان پر حکومتی حلقوں اور اپوزیشن کے مابین ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ حکومتی اراکین کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت کو امن و امان کے قیام کے لیے وفاق کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیے اور سیکیورٹی اداروں کی صلاحیت بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ دوسری جانب، خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی پالیسی کی تشکیل وفاقی حکومت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، صوبہ وسائل کی عدم فراہمی کے باوجود ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ تاجر تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس نے بھی تمام سیاسی فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی تنازعات پس پشت ڈال کر ملک کو معاشی اور سیکیورٹی بحران سے نکالنے کے لیے ایک متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں۔
مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے باہمی سیاسی کشیدگی ختم نہ کی تو سیکیورٹی چیلنجز مزید سنگین ہو سکتے ہیں، جس سے سی پیک اور علاقائی تجارتی منصوبے تعطل کا شکار رہیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں استحکام لانے کے لیے فوری طور پر ایک ہمہ جہت قومی سلامتی اجلاس طلب کرنا ناگزیر ہے جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں اور عسکری قیادت کو اعتماد میں لیا جائے۔ اگر سیاسی الزام تراشی کا یہ سلسلہ برقرار رہا تو نہ صرف عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کے بیرونی تجارتی تعلقات اور معاشی بحالی کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوگا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp