پاکستان کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں خود کفیل بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے: احسن اقبال
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود کفیل بنائے بغیر پائیدار معاشی ترقی ناممکن ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر جدید دور میں ٹیکنالوجی اور معیشت لازم و ملزوم بن چکے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے جہاں نوجوان آبادی کا بڑا حصہ موجود ہے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل خود کفیل ہونا بقا کی بنیادی شرط ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے حالیہ پالیسی بیان میں اس امر پر زور دیا ہے کہ روایتی معاشی نظام اب عالمی منڈی کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہیں۔ ماضی میں ٹیکنالوجی کے شعبے کو وہ قومی توجہ اور وسائل نہیں مل سکے جس کا یہ مستحق تھا، تاہم اب بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں پاکستان کو اپنی پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا۔ ملک میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے شعبوں میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، مگر سرکاری سطح پر سرپرستی اور فنڈز کی فراہمی کے بغیر اس صلاحیت کو بروئے کار نہیں لایا جا سکتا۔
تجارتی و معاشی اثرات ٹیکنالوجی کے شعبے میں خود کفیسی کے حصول سے ملکی معیشت پر براہ راست اور گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ موجودہ دور میں پاکستان کی برآمدات کا بڑا حصہ روایتی شعبوں تک محدود ہے، جب کہ آئی ٹی اور فری لانسنگ کے شعبے سے قیمتی زرمبادلہ حاصل کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ اگر ملک کے اندر ہی جدید تکنیکی آلات، سافٹ ویئر اور ڈیجیٹل خدمات کی تیاری شروع ہو جائے تو درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور تجارتی گھاٹے میں نمایاں کمی آئے گی۔ تاجر برادری اور ریٹیلرز کے لیے بھی یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ اپنے کاروبار کو ڈیجیٹل لائنز پر منتقل کریں تاکہ گلوبل سپلائی چینز کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم رکھا جا سکے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتیحلقوں کی جانب سے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے واضح کیا کہ معاشی اصلاحات کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ملک کو ڈیجیٹل طور پر خود کفیل نہ بنایا جائے۔ دوسری جانب، آئی ٹی انڈسٹری کے ماہرین اور کاروباری تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومت کو پالیسی سطح پر تسلسل اور ٹیکس میں چھوٹ فراہم کرنی چاہیے تاکہ بیرونی سرمایہ کاری راغب ہو سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بیوروکریٹک رکاوٹیں اور انٹرنیٹ کی سست رفتار وہ بنیادی مسائل ہیں جن کا فوری حل ناگزیر ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند برسوں میں وہ ملک معاشی طور پر مستحکم ہوں گے جو مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل اکانومی میں سب سے آگے ہوں گے۔ پاکستان کے پاس یہ آخری موقع ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو ڈیجیٹل ہنر سے آراستہ کر کے عالمی منڈی میں اپنا مقام بنائے۔ اگر بروقت درست سمت میں پالیسیاں نہ بنائی گئیں تو پاکستان محض ایک صارف بن کر رہ جائے گا، تخلیق کار نہیں۔ مستقبل کی پالیسیوں کی کامیابی کا دارومدار پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور شفاف حکمرانی پر ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp