ملکی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے انتشار پھیلایا جا رہا ہے: احسن اقبال
وفاقی وزیر احسن اقبال نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں انتشار اور فساد کے ذریعے بیرونی طاقتوں کا ایجنڈا آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس سے معیشت کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر احسن اقبال نے موجودہ ملکی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے اندرونی معاملات اور احتجاجی سیاست کے نام پر جو صورتحال پیدا کی جا رہی ہے، اس سے براہ راست دشمن قوتوں کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام اور بدنظمی نے نہ صرف انتظامی امور کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کے اثرات عامتہ الناس اور معاشی ڈھانچے پر بھی پڑ رہے ہیں۔ تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کو ہمیشہ اندرونی خلفشار کی وجہ سے معاشی محاذ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالیہ بیانات میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کو مقدم رکھا جائے۔
تجارتی و معاشی اثرات کسی بھی ملک میں معاشی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کا انحصار امن و امان اور سیاسی استحکام پر ہوتا ہے۔ ملک میں جاری سیاسی کشمکش اور احتجاج کے کلچر نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کیا ہے۔ منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کاروباری طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے، جس سے نہ صرف مقامی تجارت متاثر ہو رہی ہے بلکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری بھی رک گئی ہے۔ مہنگائی کی موجودہ شرح اور روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے اس دور میں مزید انتشار معیشت کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ریٹیلرز اور تاجر برادری کا کہنا ہے کہ غیر یقینی ماحول کی وجہ سے ان کا روزمرہ کا کاروبار مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ملکی ترقی کے لیے سیاسی رواداری اور قانون کی بالادستی ناگزیر ہے۔ احسن اقبال اور دیگر رہنماؤں کا اصرار ہے کہ مسائل کے حل کے لیے پارلیمان اور آئینی فورمز کا استعمال کیا جانا چاہیے نہ کہ سڑکوں پر احتجاج اور جلاؤ گھیراؤ کا راستہ اپنایا جائے۔ دوسری جانب، مختلف سیاسی جماعتوں اور فریقین کے اپنے تحفظات ہیں، تاہم تمام سنجیدہ حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ معاشی خود مختاری اور ملکی مفاد کو کسی بھی سیاسی مقصد پر قربان نہیں کیا جانا چاہیے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں اگر سیاسی کشمکش کا یہ سلسلہ جاری رہا تو معاشی اہداف کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ جامع مذاکرات کا آغاز کرے تاکہ قومی یکجہتی کو فروغ دیا جا سکے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر سیاسی اور معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے، تو ملک کو طویل المدتی بنیادوں پر مالیاتی اور تجارتی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مستقل امن کے قیام کے بغیر ملکی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp