ورلڈ بینک کی رپورٹ: پاکستان خطے کے اڑتالیس فیصد غریب افراد کا مسکن بن گیا
عالمی بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے کے اڑتالیس فیصد غریب عوام کا گھر بن چکا ہے، جس سے ملکی معیشت اور معاشرتی ڈھانچے پر شدید سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کے خطے میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والی کل آبادی کا اڑتالیس فیصد حصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ملکی معاشی سمت پر سوالیہ نشان اٹھاتی ہے بلکہ پچھلی چند دہائیوں کے دوران پالیسی سازوں کی جانب سے اختیار کی جانے والی معاشی ترجیحات کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافہ، روپیہ کی قدر میں کمی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے قرضوں کے بوجھ نے عام آدمی کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال بالخصوص زیادہ ابتر ہے جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان اور زراعت پر پڑنے والے منفی موسمیاتی اثرات نے کسانوں اور مزدور طبقے کو کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات اس صورتحال کے ملکی تجارت، منڈیوں اور ریٹیل سیکٹر پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ جب ملک کی نصف کے قریب آبادی غربت کا شکار ہو جائے تو منڈی میں طلب کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ عام صارفین کی قوت خرید گھٹنے کی وجہ سے اشیائے خورونوش، کپڑے اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جس سے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کا کاروبار شدید مندی کا شکار ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے ریٹیلرز کو منافع کے مارجن میں کمی کا سامنا ہے جبکہ صنعتی پیداوار میں بھی سست روی دیکھی جا رہی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر قوت خرید کا یہ بحران برقرار رہا تو صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں مزید سکڑ جائیں گی جس سے بیروزگاری میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل معاشی ماہرین اور تاجر برادری نے اس رپورٹ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور سنجیدہ اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ کالر ٹریڈرز کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹیکسوں کے ظالمانہ نظام اور یوٹیلیٹی بلز میں ہوشربا اضافے نے غریب تو کیا متوسط طبقے کی کمر بھی توڑ دی ہے۔ دوسری جانب، حکومتیحلقوں کا مؤقف ہے کہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے طویل المدتی اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں جن کے نتائج آنے والے وقت میں برآمد ہوں گے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ احساس پروگرام اور دیگر فلاحی اقدامات کے ذریعے نچلے طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ غربت کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے مہینوں میں اگر حکومت نے معاشی سمت درست نہ کی اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے موثر اقدامات نہ کیے تو غربت کی یہ لکیر مزید گہری ہو سکتی ہے۔ مستقبل کے منظرنامے میں ضروری ہے کہ زراعت اور چھوٹی صنعتوں کو مراعات دی جائیں تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ اس کے علاوہ، ٹیکس نیٹ کو وسیع کرتے ہوئے غریب عوام پر سے بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا ہوگا تاکہ معاشی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہو سکیں اور ملک کو اس دلدل سے نکالا جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp