Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

صومالیہ میں بحری جہاز کے ریسکیو آپریشن کے دوران پاکستانیوں کی ہلاکت، اہلخانہ کا شدید غم و غصہ اور حکومتی مؤقف

صومالیہ میں ہائی جیک بحری جہاز کی بازیابی کے دوران پاکستانیوں کی ہلاکت پر لواحقین نے حکومتی بے توجہی کا شکوہ کیا ہے جبکہ وزارتِ خارجہ نے میتوں کی واپسی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

صومالیہ میں بحری جہاز کے ریسکیو آپریشن کے دوران پاکستانیوں کی ہلاکت، اہلخانہ کا شدید غم و غصہ اور حکومتی مؤقف

اہم ترین حقائق و پس منظر صومالیہ کے ساحل کے قریب پیش آنے والے ایک دلخراش واقعے میں بحری جہاز ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرانے کے لیے کیے جانے والے فوجی آپریشن کے دوران تین پاکستانی شہریوں سمیت پانچ افراد ہلاک اور چار شدید زخمی ہو گئے۔ اس المناک واقعے نے پورے ملک میں بالخصوص میری ٹائم کمیونٹی اور متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ جہاز کے عملے میں شامل پاکستانی شہریوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اغوا کے بعد سے لے کر آپریشن تک کے دوران حکومتی سطح پر جو پھرتی دکھائی جانی چاہی تھی، اس کا فقدان رہا۔ مقتولین کے اہل خانہ کے مطابق، جب بھی ان کی اپنے پیاروں سے فون پر بات ہوتی تھی، وہ خوف زدہ ہو کر کہتے تھے کہ صومالی قزاق اور عسکریت پسند انھیں کسی بھی وقت قتل کر سکتے ہیں۔ اس بحران نے بین الاقوامی سمندروں میں پاکستانی ملاحوں اور جہاز رانوں کو درپیش سکیورٹی کے سنگین خطرات کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے، جہاں نامساعد حالات اور کمزور سفارتی پشیمانی کے باعث محنت کش اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات اس واقعے کے بعد بین الاقوامی میری ٹائم ٹریڈ اور پاکستانی شپنگ انڈسٹری پر دور رس معاشی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ صومالیہ اور خلیجی خطے کے سمندری راستوں پر سکیورٹی خدایات میں اضافے کے باعث مال بردار بحری جہازوں کے بیمہ (انشورنس) کے اخراجات میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس کا براہ راست اثر اشیائے خوردونورد اور درآمدی و برآمدی اشیاء کی قیمتوں پر پڑے گا۔ کلی طور پر دیکھا جائے تو اس طرح کے بحران پاکستانی تاجروں اور شپنگ کمپنیوں کے لیے بیرونی منڈیوں میں ٹرانسپورٹیشن کے مسائل کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ ریٹیلرز اور عام صارفین تک سامان کی ترسیل کے اخراجات بڑھنے سے ملکی سطح پر مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، اگر بین الاقوامی سمندروں میں پاکستانی ملاحوں کے تحفظ کے لیے طویل المدتی اور مؤثر پالیسی مرتب نہ کی گئی تو پاکستان کی بحری تجارت کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جو کہ ملکی معیشت کی بحالی کے عمل کے لیے ایک بڑا دھکا ہوگا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور متعلقہ وزارتوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے پیاروں کی میتیں فوری طور پر پاکستان منتقل کی جائیں اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وقت پر درست فیصلے کیے جاتے تو قیمتی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ دوسری جانب، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ حکومتی اداروں نے وضاحت جاری کی ہے کہ وہ صومالی حکام اور بین الاقوامی بحری فورسز کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ حکومتی ترجمان کے مطابق، تمام دستیاب سفارتی ذرائع کو بروئے کار لایا جا رہا ہے تاکہ جاں بحق ہونے والے افراد کی میتیں جلد از جلد ان کے آبائی علاقوں میں پہنچائی جا سکیں اور زخمیوں کی پاکستان واپسی کے لیے تمام تر طبی و قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ تاجر برادری اور مزدور یونینز نے بھی اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری سفر کرنے والے عملے کی زندگیوں کے بیمے اور تحفظ کے لیے سخت ضابطے نافذ کرے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اس واقعے کے بعد سمندری مسافروں اور ملاحوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کا مطالبہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ وزارتِ سمندری امور اور وزارتِ خارجہ مشترکہ طور پر ایک جامع لائحہ عمل تیار کریں گی تاکہ مستقبل میں ایسے ناگہانی بحرانوں سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔ علاوہ ازیں، بین الاقوامی میری ٹائم تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھا کر صومالیہ اور دیگر خطرناک ساحلی علاقوں میں پاکستانی بحری جہازوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئے سکیورٹی پروٹوکولز پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ کی ادائیگی اور قانونی چارہ جوئی کے عمل میں معاونت فراہم کرنا بھی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا، جس کے اچھے یا برے اثرات آئندہ آنے والے دنوں میں ملکی سیاست اور معیشت پر واضح طور پر دکھائی دیں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
صومالیہ میں بحری جہاز کے ریسکیو آپریشن کے دوران پاکستانیوں کی ہلاکت، اہلخانہ کا شدید غم و غصہ اور حکومتی مؤقف