حکومت اور اپوزیشن مذاکرات محض فیس سیونگ کا ڈرامہ تھے: شیر افضل مروت کا بڑا دعویٰ
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان حالیہ مذاکرات کا مقصد محض فیس سیونگ تھا جس سے کسی مثبت سیاسی یا معاشی پیش رفت کی توقع نہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
حالیہ دنوں میں پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل اس وقت دیکھنے میں آئی جب حکومت اور اپوزیشن کے مابین پس پردہ یا اعلانیہ رابطوں کی بازگشت سنائی دی۔ اسی تناظر میں پاکستان تحریک انصاف کے معروف رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ فریقین کے درمیان ہونے والے یہ مذاکرات کسی حقیقی قومی مفاہمت یا جمہوریت کے استحکام کے لیے نہیں تھے، بلکہ ان کا واحد مقصد سیاسی میدان میں اپنی ناکامیوں کو چھپانا اور محض 'فیس سیونگ' حاصل کرنا تھا۔
ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بحران کے حل کے لیے مذاکرات کی میز سجائی گئی ہو، تاہم عام طور پر ان مکالموں کا انجام بے نتیجہ ہی رہا ہے۔ موجودہ سیاسی تناؤ نے نہ صرف پارلیمانی نظام کو کمزور کیا ہے بلکہ اس کے اثرات براہ راست ملکی انتظامی امور اور پالیسی سازی پر بھی پڑ رہے ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ جب تک فریقین ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہیں کرتے، اس قسم کے اجلاس محض وقت کا ضیاع ثابت ہوں گے۔
تجارتی و معاشی اثرات
سیاسی غیر یقینی اور مسلسل محاذ آرائی کا سب سے زیادہ نقصان ملکی معیشت اور تجارت کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ کاروباری حلقے اور سرمایہ کار اس صورتحال کی وجہ سے شدید عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کسی بھی معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی شرط سیاسی استحکام ہے، مگر پاکستان میں جاری کشمکش کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری جمود کا شکار ہو چکی ہے۔
منڈیوں میں بے یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں، اور افراط زر کی شرح بلند رہنے کی وجہ سے عام صارف اور ریٹیلرز شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی اس رسہ کشی کی بھینٹ عام آدمی کی روزی روٹی چڑھ رہی ہے۔ جب تک سیاسی بحران حل نہیں ہوتا، مہنگائی اور معاشی جمود کے خاتمے کی کوئی بھی کوشش بارآور ثابت نہیں ہو سکتی۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
شیر افضل مروت کے اس بیان کے بعد سیاسی میدان میں گرما گرمی مزید بڑھ گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کے مطابق پارٹی کا ایک طبقہ حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے مبہم مذاکرات کے خلاف ہے اور وہ واضح اور دوٹوک مؤقف اپنانے پر زور دے رہا ہے۔ دوسری جانب، حکومتی اتحاد کا اصرار ہے کہ انہوں نے ہمیشہ سیاسی استحکام کے لیے دروازے کھلے رکھے ہیں اور اپوزیشن کا غیر لچکدار رویہ ہی تمام مسائل کی جڑ ہے۔
سول سوسائٹی اور مختلف سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بجائے اپنے سیاسی قد کو بلند کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ عوامی سطح پر اس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ سیاستدانوں کے ذاتی تنازعات نے ملکی ترقی کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
آنے والے دنوں میں اگر سیاسی کشیدگی میں کمی نہ آئی تو معاشی اشاریے مزید تنزلی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے اہداف کے حصول کے لیے سیاسی یکجہتی ناگزیر ہے، جو فی الحال ناپید نظر آتی ہے۔
مستقبل کا دار و مدار اس بات پر ہے کہ آیا حکومت اور اپوزیشن ہوش کے ناخن لیتے ہوئے معاشی اور قومی مفاد میں کسی مشترکہ لائحہ عمل پر متفق ہوتے ہیں یا پھر یہ محاذ آرائی ملک کو مزید گہرے معاشی بحران کی طرف دھکیلتی ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.