مصطفیٰ کمال کے بیانات کراچی میں لسانی کشیدگی کو ہوا دینے کی سوچی سمجھی سازش ہیں، سعدیہ جاوید
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال کے بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کراچی کو دوبارہ لسانی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی کی مقامی سیاست میں ایک بار پھر گرما گرمی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کی رہنما اور صوبائی شخصیت سعدیہ جاوید نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکزی رہنما اور سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال کے حالیہ بیانات پر کڑے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ کمال اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے شہرِ قائد کے پرامن ماحول کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پس منظر میں دیکھا جائے تو کراچی طویل عرصے تک لسانی اور سیاسی خون خرابے کا شکار رہا ہے، اور حالیہ چند برسوں میں بڑی مشکل سے شہر میں امن و امان کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کا پہیہ دوبارہ ٹریک پر آیا ہے۔ ایسے میں کسی بھی سیاسی رہنما کی جانب سے اشتعال انگیز بیانات دینا اس نازک امن کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھا جا رہا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات کراچی پاکستان کا معاشی حب اور اقتصادی دارالحکومت ہے، جہاں ملک بھر سے تجارتی سرگرمیاں جڑی ہوئی ہیں۔ شہر میں کسی بھی قسم کی سیاسی یا لسانی کشیدگی کا براہ راست اثر کاروبار، اسٹاک ایکسچینج، صرافہ مارکیٹ، اور ریٹیل سیکٹر پر پڑتا ہے۔ جب بھی شہر میں ہڑتالوں یا بدامنی کا ماحول بنتا ہے، چھوٹے تاجروں، دکانداروں اور دیہاڑی دار طبقے کو شدید معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی برادری پہلے ہی مہنگائی، بلند شرح سود اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، اور اس طرح کی سیاسی بیان بازی کاروباری اعتماد کو متزلزل کرتی ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے اشیائے خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے، جو کہ عام عوام کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیتا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل سعدیہ جاوید نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کراچی میں رواداری، بھائی چارے اور ترقی کی سیاست کو فروغ دیا ہے جبکہ دوسری طرف کچھ عناصر اپنی سیاسی زمین بچانے کے لیے عوام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ کسی کو بھی اپنے شہر کا امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دوسری جانب، ایم کیو ایم پاکستان کے حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان کے رہنماؤں کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا रहा ہے اور وہ کراچی کے حقوق، مساوی ترقی اور شہریوں کے جائز مطالبات کی بات کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ لفظی تانابانی آنے والے دنوں میں سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر سکتی ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اگر اس سیاسی کشیدگی کو بات چیت اور تدبر کے ذریعے کم نہ کیا گیا تو اس کے منفی اثرات نہ صرف سیاسی میدان بلکہ انتظامی امور پر بھی مرتب ہوں گے۔ کراچی کے شہری اور بالخصوص کاروباری طبقہ یہ توقع رکھتا ہے کہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر شہر کے امن کو ترجیح دیں گے۔ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی احتجاج یا لسانی فسادات کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کریں تاکہ معاشی سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہ سکیں اور شہر میں استحکام برقرار رہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp