سیاسی قیادت کے غیر خود مختار فیصلوں سے ریاستی ادارے اور معیشت عدم استحکام کا شکار ہیں: علامہ راجہ ناصر عباس
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ جب سیاسی قیادت آزادانہ فیصلوں سے محروم ہو جائے تو ریاستی نظام اور ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے ملکی سیاسی و آئینی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سیاستدانوں کی جانب سے بااختیار کردار ادا نہ کرنا ریاست کے بنیادی ڈھانچے کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی سیاسی نمائندے اپنی آئینی اور اخلاقی حیثیت کو پسِ پشت ڈال کر کٹھ پتلی بننے پر راضی ہوئے، اس کے نتیجے میں ملک کو سنگین آئینی، سماجی اور انتظامی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پارلیمانی نظام کی بالادستی اسی صورت ممکن ہے جب عوامی نمائندے بیرونی یا غیر جمہوری دباؤ سے بالاتر ہو کر فیصلے کریں اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔
تجارتی و معاشی اثرات سیاسی بے یقینی کے براہ راست اثرات پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں، کرنسی مارکیٹ اور بیرونی سرمایہ کاری پر شدت سے اثر انداز ہو رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق جب تک ریاستی پالیسیوں میں تسلسل اور شفافیت نظر نہیں آئے گی، تب تک صنعتی شعبے اور نجی سرمایہ کاروں کے تحفظات دور نہیں ہو سکتے۔ تجارتی برادری اس وقت شرح سود، توانائی کے زائد نرخوں اور منڈیوں میں مندی کے رجحان کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی محاذ پر محاذ آرائی اور بے چینی نے ریٹیل سیکٹر اور تھوک مارکیٹوں میں خریداروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس سے روزگار کے مواقع محدود اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل علامہ راجہ ناصر عباس کے بیان کے ردعمل میں سیاسی حلقوں نے متضاد آراء پیش کی ہیں۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمران اتحاد عوامی تائید اور ٹھوس معاشی منشور سے محروم ہے، جس کی وجہ سے پالیسیاں عوامی مفاد کے بجائے عارضی مفادات کے گرد گھوم رہی ہیں۔ دوسری جانب حکومتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ معیشت کو درست سمت میں لانے کے لیے سخت مالیاتی فیصلے ناگزیر ہیں اور جمہوری عمل بتدریج پختگی کی جانب گامزن ہے۔ تاہم تاجر برادری کا اصرار ہے کہ تمام فریقین ذاتی اختلافات بھلا کر معاشی استحکام کو ترجیح دیں۔
مستقبل کا منظرنامہ مستقبل کے سیاسی و معاشی منظرنامے کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آیا مقتدر حلقے اور سیاسی قیادت قومی ڈائیلاگ کی طرف پیش رفت کرتے ہیں یا نہیں۔ اگر سیاسی بے یقینی کو ختم کرنے کے لیے آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر آزادانہ فیصلے نہ کیے گئے تو معاشی بحران مزید گھمبیر ہو سکتا ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور ریٹیلرز کی مشکلات کا حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی فیصلے شفاف اور پارلیمان کے اندر طے پائیں۔ بصورت دیگر منڈیوں کی بے یقینی ملکی ترقی کی رفتار کو مزید سست کر دے گی۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp