Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پریشے عدنان کا نیویارک فیشن ویک تک کا سفر: پاکستانی دستکاری اور پائیدار فیشن کی عالمی پذیرائی

پاکستانی ڈیزائنر پریشے عدنان نے نیویارک فیشن ویک میں اپنا کلیکشن پیش کر کے ملک کا نام روشن کیا اور عالمی سطح پر پائیدار فیشن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

پریشے عدنان کا نیویارک فیشن ویک تک کا سفر: پاکستانی دستکاری اور پائیدار فیشن کی عالمی پذیرائی

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستانی فیشن انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی ڈیزائنر پریشے عدنان نے حال ہی میں نیویارک فیشن ویک کے بڑے اسٹیج پر اپنے منفرد کلیکشن ’سیکنڈ سکن‘ کے ذریعے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے۔ کالج کے دنوں میں جنہیں مبینہ طور پر مزاحیہ یا چٹکلے کے طور پر ’غنڈا، ڈان اور باس‘ کے القابات سے پکارا جاتا تھا، انہوں نے اپنی محنت، عزم اور تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پر نہ صرف اپنی ایک منفرد شناخت بنائی بلکہ بین الاقوامی فیشن کی دنیا میں پاکستان کا پرچم بھی بلند کیا۔ اس فیشن ویک کے دوران ان کے ذہن میں محض کپڑے یا ان کے ڈیزائن پیش کرنا نہیں تھا، بلکہ پاکستان میں صدیوں سے رائج ہاتھ کا روایتی کام، پائیدار یعنی ’سسٹینیبل‘ فیشن اور اپنی ثقافتی شناخت کو دنیا کے سامنے لانا بھی اس سفر کا اہم ترین حصہ تھا۔

تجارتی و معاشی اثرات اس نوعیت کے عالمی میلوں میں پاکستانی ڈیزائنرز کی شرکت کا براہ راست تعلق ملک کی معیشت اور ٹیکسٹائل سیکٹر سے ہے۔ جب ہاتھ کی بنی ہوئی روایتی اشیاء اور پائیدار فیشن کو بین الاقوامی منڈیوں میں پذیرائی ملتی ہے تو اس سے مقامی کاریگروں، ہست کلا سے وابستہ مزدوروں اور بالخصوص خواتین کاریگروں کے لیے روزگار کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس قسم کے اقدامات سے پاکستان کی برآمدات میں ویلیو ایڈڈ اشیاء کا تناسب بڑھتا ہے، جس سے ریٹیلرز اور برانڈز کو عالمی سطح پر مسابقتی برتری حاصل ہوتی ہے اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل فیشن انڈسٹری اور تجارتی حلقوں کی جانب سے پریشے عدنان کی اس کامیابی کو سراہا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فیشن کو اب روایتی دائروں سے نکال کر گلوبل مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے باصلاحیت نوجوان ڈیزائنرز کو حکومتی سطح پر سرپرستی اور مالی اعانت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ بین الاقوامی نمائشوں میں پاکستان کی بھرپور نمائندگی کر سکیں اور ملک کے لیے معاشی فوائد سمیٹ سکیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے وقت میں پاکستان کے فیشن اور ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ پائیدار فیشن کے اصولوں کو اپناتے ہوئے عالمی منڈی میں اپنی جڑیں مضبوط کریں۔ پریشے عدنان جیسی شخصیات کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر پاکستانی کاریگروں کی مہارت کو جدید ڈیزائننگ کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے تو ملک فیشن انڈسٹری میں ایک بڑی معاشی طاقت بن کر ابھر سکتا ہے۔ مستقبل میں اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف ملک کی مثبت معاشی تصویر اجاگر ہوگی بلکہ مقامی صنعتوں کو بھی جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پریشے عدنان کا نیویارک فیشن ویک تک کا سفر: پاکستانی دستکاری اور پائیدار فیشن کی عالمی پذیرائی