پشاور میں امن و امان کے پیش نظر احتجاج، جلسے اور ریلیوں پر ایک ہفتے کی پابندی عائد
پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر دفعہ 144 کے تحت جلسوں، ریلیوں اور احتجاج پر سات روزہ پابندی عائد کر دی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں امن و امان کے قیام اور ممکنہ سکیورٹی خطرات کے تدارک کے لیے ضلعی انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، دھرنے اور ریلیوں پر سات روز کے لیے مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ضابطہ فوجداری کی دفعہ 188 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد اہم سرکاری تنصیبات، حساس مقامات اور شاہراہوں پر بلا تعطل آمد و رفت کو برقرار رکھنا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات پشاور کے تجارتی حلقوں نے اس پابندی کو ملے جلے ردعمل کے ساتھ دیکھا ہے۔ ایک طرف جہاں سیاسی یا تنظیمی احتجاج کے باعث کاروباری سرگرمیاں معطل رہنے اور اہم تجارتی راستے بند ہونے سے روزانہ کروڑوں روپے کے مالی نقصانات کا اندیشہ ہوتا ہے، وہیں دوسری جانب دفعہ 144 کے نفاذ سے شہر میں گاہکوں اور خریداروں کی نقل و حرکت میں محتاط رویہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ہول سیل منڈیوں، نمک منڈی اور خیبر بازار کے تاجروں کے مطابق سیاسی دھرنوں اور سڑکوں کی بندش سے سپلائی چین شدید متاثر ہوتی ہے جس کا براہ راست اثر اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اگر انتظامیہ آمد و رفت کو معمول پر رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو اس سے مقامی تجارت کو سڑکوں کی ممکنہ ناکہ بندی کے نقصانات سے تحفظ مل سکے گا۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ کسی سیاسی آواز کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور جان و مال کے تحفظ کی خاطر کیا گیا ہے۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حساس حالات میں عوامی اجتماعات دہشت گرد عناصر کے لیے آسان ہدف ثابت ہو سکتے ہیں، لہٰذا احتیاطی تدابیر ناگزیر تھیں۔ دوسری جانب سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں نے اس پابندی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئینی اور جمہوری حقوق پر قدغن قرار دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے اور سکیورٹی خدشات کی آڑ میں سیاسی سرگرمیوں کو محدود نہ کیا جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ سات روز کے دوران پشاور میں انتظامیہ کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات اور پولیس فورس کی اضافی تعیناتی متوقع ہے۔ اس دوران سیاسی جماعتوں کی حکمت عملی پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کہ آیا وہ عدالتی فورمز سے رجوع کرتی ہیں یا متبادل طریقوں سے اپنا مؤقف پیش کریں گی۔ معاشی اور سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حالات پرامن رہے تو مدت ختم ہونے کے بعد پابندی اٹھا لی جائے گی، بصورت دیگر صورتحال کا ازسرنو جائزہ لے کر دفعہ 144 کی مدت میں توسیع کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp