نورستان کے مبینہ واقعات کو پاکستان سے جوڑنے کی کوششیں مسترد: وزارت اطلاعات
حکومتِ پاکستان نے نورستان میں مبینہ تشدد کے واقعات کو پاکستان سے جوڑنے والے بھارتی اور بعض دیگر حلقوں کے پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر حالیہ دنوں میں افغان صوبے نورستان کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے ایسے دعوے سامنے آئے جن میں مبینہ تشدد کے واقعات کو پاکستان کے ساتھ منسلک کرنے کی کوشش کی گئی۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات اور دفترِ خارجہ نے ان تمام الزامات کو حقائق کے منافی، من گھڑت اور سیاسی مفادات پر مبنی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق، پاکستان نے ہمیشہ خطے بالخصوص افغانستان میں پائیدار امن، سلامتی اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات کی حمایت کی ہے۔ نورستان کے واقعے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں بدامنی کو ہوا دینا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات اس طرح کے بے بنیاد الزامات اور منفی پروپیگنڈے کا براہ راست اثر دوطرفہ تجارت، سرحدی منڈیوں اور معاشی سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ پاک افغان راہداری تجارت اور تجارتی گزرگاہوں پر غیر یقینی کی صورتحال سے تاجر برادری، درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرحدی کشیدگی یا اس نوعیت کے پروپیگنڈے کی وجہ سے اشیائے خورونورد، ایندھن اور دیگر تجارتی اشیاء کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، جس سے بالآخر دونوں جانب کے عام صارفین اور ریٹیلرز کو مہنگائی اور قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کلیر ٹریڈرز کے تجزیہ کاروں کے مطابق، خطے میں تجارتی استحکام کے لیے سیاسی بیان بازی سے گریز اور معاشی روابط کو سیاست سے الگ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ترجمان وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور خارجہ پالیسی خطے میں امن اور خوشحالی کے اصولوں پر مبنی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ بے بنیاد الزامات لگانے والے عناصر دراصل خطے کے عوام کو ترقی اور خوشحالی کے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب، تاجر برادری اور کاروباری حلقوں نے بھی اس قسم کے پروپیگنڈے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی راستوں کو ہر قسم کے سیاسی تنازعات اور الزامات سے مبرا رکھا جائے تاکہ عام تاجر اور مزدور طبقہ معاشی نقصان سے محفوظ رہ سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر یہ امر ناگزیر ہو چکا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سفارتی اور معاشی سطح پر موثر مواصلاتی چینلز کو فعال کیا جائے تاکہ کسی بھی غلط فہمی یا پروپیگنڈے کا فوری سدباب کیا جا سکے۔ مستقبل میں سرحدی تجارت کے فروغ اور دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔ اگر اس قسم کے بے بنیاد الزامات کا سلسلہ نہ روکا گیا تو یہ خطے کی معیشت اور پائیدار امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp