پاکستان ریلوے کا ٹرینوں میں بغیر ٹکٹ سفر کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ
پاکستان ریلوے نے محکمے کو مالی بحران سے نکالنے اور ریونیو بڑھانے کے لیے بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان ریلوے کی انتظامیہ نے ملک بھر میں چلنے والی تمام مسافر ٹرینوں میں بغیر ٹکٹ سفر کے رجحان پر قابو پانے کے لیے ایک انتہائی سخت اور جامع کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ ریلوے حکام کے مطابق، طویل عرصے سے بغیر ٹکٹ سفر کی وجہ سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے ماہانہ کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا، جس سے ادارے کی مالی حالت مزید ابتر ہو گئی ہے۔ اس نئے لائحہ عمل کے تحت تمام اہم اور لوکل ٹرینوں میں اچانک چھاپے مارے جائیں گے اور دورانِ سفر چیکنگ کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور خودکار بنایا جا رہا ہے۔ ریلوے پولیس اور انسپیکشن ٹیموں کو خصوصی اختیارات سونپ دیے گئے ہیں تاکہ وہ کسی بھی قسم کے سیاسی دباؤ یا سفارش کے بغیر قانون کی بالادستی کو یقینی بنا سکیں۔ اس مہم کا بنیادی مقصد ریلوے کے اندر موجود کالی بھیڑوں اور کرپٹ عناصر کا قبلہ درست کرنا بھی ہے جو مبینہ طور پر مسافروں سے ملی بھگت کر کے ریلوے ٹکٹوں کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں نے ریلوے کے اس فیصلے کو ایک خوش آئند قدم قرار دیا ہے کیونکہ پاکستان ریلوے ملک کا ایک اہم ترین عوامی نقل و حمل کا ذریعہ ہے جو بالخصوص کم آمدنی والے طبقے اور تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ بغیر ٹکٹ سفر کے خاتمے سے ریلوے کی سالانہ آمدنی میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے نہ صرف ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے مسائل حل ہوں گے بلکہ ٹرینوں کے نظام الاوقات اور کوچز کی بہتری میں بھی مدد ملے گی۔ جب ریلوے کا مالیاتی خسارہ کم ہوگا تو اس کا براہ راست مثبت اثر قومی معیشت پر پڑے گا اور حکومت کو ٹرینوں کے کرایوں میں بلاجواز اضافے سے گریز کرنے کا موقع ملے گا۔ تاجر برادری نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ مال بردار گاڑیوں اور مسافر سروسز کی بہتری سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور سپلائی چین مزید مستحکم ہوگی۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ترجمان پاکستان ریلوے کا کہنا ہے کہ ادارے کو منافع بخش بنانے اور مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بغیر ٹکٹ سفر کرنے والے افراد کے ساتھ اب کسی بھی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی اور قانون کے مطابق بھاری جرمانے کے ساتھ ساتھ قید کی سزائیں بھی دی جائیں گی۔ دوسری جانب، مسافر تنظیموں اور سول سوسائटी نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ ٹکٹوں کی خریداری کے عمل کو انتہائی آسان بنایا جائے تاکہ عام مسافروں کو اسٹیشنز پر طویل قطاروں میں نہ کھڑا ہونا پڑے۔ ریلوے مزدور یونینز نے بھی کریک ڈاؤن کی حمایت کی ہے لیکن ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ ٹکٹ چیکنگ اسٹاف کی حفاظت اور ان کے بنیادی مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ لائحہ عمل کے تحت پاکستان ریلوے نے ٹرینوں کے اندر ہی موبائل ٹکٹنگ اور ڈیجیٹل پیمنٹ گیٹ ویز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ دورانِ سفر اگر کسی مسافر کے پاس ٹکٹ نہ ہو تو وہ فوری طور پر جرمانے کے ساتھ قانونی ٹکٹ حاصل کر سکے۔ ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں ایک مرکزی مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر تمام ٹرینوں کی چیکنگ رپورٹس کا جائزہ لے گا۔ اگر یہ مہم کامیابی کے ساتھ نافذ العمل رہتی ہے تو نہ صرف ریلوے کا خسارہ ختم ہو جائے گا بلکہ مستقبل میں نئی ٹرینوں کی شمولیت اور مسافروں کے لیے سفری سہولیات میں انقلابی بہتری دیکھنے کو ملے گی۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp