Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

ایم ڈی کیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں: عادل عسکری

ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور شفافیت کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ایم ڈی کیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں: عادل عسکری

اہم ترین حقائق و پس منظر ملک بھر میں طبی شعبے کے داخلہ امتحانات یعنی ایم ڈی کیٹ کے انعقاد کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ امتحان کے نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے کی افواہوں اور انتظامی غفلت کے خلاف طلباء اور والدین سراپا احتجاج ہیں۔ اس تمام صورتحال میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ذمہ داران کی نااہلی کھل کر سامنے آ رہی ہے، جس نے پورے تعلیمی ڈھانچے کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ عادل عسکری سمیت مختلف حلقوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ میرٹ کی شفافیت کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جانا چاہیے کیونکہ یہ براہ راست ملک کے مستقبل کے معماروں کی محنت کا سوال ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات تعلیمی شعبے میں اس نوعیت کی بے ضابطگیوں کا براہ راست اثر معیشت اور معاشرتی ڈھانچے پر مرتب ہوتا ہے۔ جب طلباء کا تعلیمی نظام سے اعتماد اٹھ جاتا ہے تو وہ بیرون ملک منتقلی کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے قیمتی سرمایہ کارانہ صلاحیتیں ملک سے باہر چلی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، کوچنگ سینٹرز، تعلیمی سامان کی مارکیٹ اور اس سے جڑے چھوٹے بڑے تجارتی و رفاہی ادارے بھی اس بے یقینی کی فضا سے متاثر ہوتے ہیں۔ تعلیمی زوال دراصل معاشی زوال کی بنیاد بنتا ہے، اور ریٹیلرز سے لے کر بڑے تعلیمی اداروں تک ہر سطح پر مالی و معاشی بحران کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل مختلف حلقوں بالخصوص تاجر برادری، سول سوسائٹی اور تعلیمی ماہرین کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ عادل عسکری نے واضح کیا ہے کہ غفلت کے مرتکب عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لائے بغیر معاملات درست نہیں ہو سکتے۔ دوسری جانب، متعلقہ حکومتی اور تعلیمی بورڈز کے حکام روایتی بیانات پر اکتفا کر رہے ہیں اور مبینہ بے ضابطگیوں کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوامی اور سماجی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ایک اعلیٰ اختیارات والا جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جو تمام شواہد کا بغور جائزہ لے کر اپنی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کرے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں اگر حکومت نے اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو احتجاج کا دائرہ کار پورے ملک تک پھیل سکتا ہے۔ قانونی چارہ جوئی کے راستے بھی کھل رہے ہیں جن سے تعلیمی نظام میں مزید اکھاڑ پچھاڑ کا اندیشہ ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فوری طور پر شفاف تحقیقات کی جائیں، میرٹ کو بحال کیا جائے اور آئندہ کے لیے امدادی و تحریری نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز اور محفوظ بنایا جائے تاکہ لاکھوں طلباء کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
ایم ڈی کیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں: عادل عسکری