Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

معاشی زوال اور فرسودہ حکومتی نظام: لیاقت بلوچ کا کڑے احتساب اور اصلاحات کا مطالبہ

امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے موجودہ ملکی نظام کو فرسودہ اور زوال پذیر قرار دیتے ہوئے معاشی بحران کے حل کے لیے فوری اور بنیادی اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

معاشی زوال اور فرسودہ حکومتی نظام: لیاقت بلوچ کا کڑے احتساب اور اصلاحات کا مطالبہ

اہم ترین حقائق و پس منظر ملک کے موجودہ سیاسی اور معاشی منظر نامے میں حکومتی ڈھانچے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگتے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ نے ایک بار پھر ملکی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے فرسودہ، بدبودار اور زوال پذیر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پالیسی سازوں کی نااہلی اور اقربا پروری کی وجہ سے ملک کا انتظامی اور معاشی ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ بنیادی عوامی مسائل کے حل کے لیے روایتی ہتھکنڈے ناکام ہو چکے ہیں اور ریاست کے تمام ستون شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اس وقت عام آدمی مہنگائی کے طوفان میں پس رہا ہے جبکہ قانون کی حکمرانی اور میرٹ کے اصولوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کے مطابق، موجودہ فرسودہ نظام کے براہ راست اثرات ملکی تجارت، صنعت اور عام منڈی پر پڑ رہے ہیں۔ مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے اور روپے کی قدر میں گراوٹ نے تجارتی سرگرمیوں کو سست کر دیا ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر شدید مالی بحران سے دوچار ہیں، کیونکہ یوٹیلیٹی بلز، بالخصوص بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے پیداواری لاگت کو کئی گناہ بڑھا دیا ہے۔ ریٹیل سیکٹر میں خریدار کی قوتِ خرید ختم ہو چکی ہے، جس سے نہ صرف کاروباری منافع سکڑ گیا ہے بلکہ بے روزگاری میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ تاجر برادری کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکس وصولی کے ظالمانہ نظام اور کاروباری ماحول کو بہتر نہ بنایا گیا تو مزید فیکٹریاں اور تجارتی مراکز بند ہو جائیں گے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل دوسری جانب سیاسی اور معاشی حلقوں میں اس بیان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ موجودہ حکمران طبقہ عوامی مسائل سے لاتعلق ہو چکا ہے اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے تحت عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ تاجر تنظیموں نے بھی حکومت کی معاشی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تاجر دوست پالیسیاں بنائی جائیں اور ظالمانہ ٹیکسوں کا خاتمہ کیا جائے۔ ادھر حکومتی ترجمان کا اصرار ہے کہ معیشت کو درست سمت میں گامزن کرنے کے لیے کڑے فیصلے ناگزیر تھے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے اصلاحاتی عمل جاری ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ کے معاشی اور سیاسی حالات انتہائی چیلنجنگ دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر حکومت نے فوری طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ ملا کر ایک جامع قومی معاشی ایجنڈا تشکیل نہ دیا، تو عوامی بے چینی اور معاشی ابتری میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فرسودہ نظام کو تبدیل کرکے ایک شفاف، جوابدہ اور عوام دوست نظام کی بنیاد رکھی جائے تاکہ ملک کو موجودہ دلدل سے نکالا جا سکے اور معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
معاشی زوال اور فرسودہ حکومتی نظام: لیاقت بلوچ کا کڑے احتساب اور اصلاحات کا مطالبہ