Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

لاہور میں لوڈشیڈنگ کا بحران شدید، تجارتی سرگرمیاں متاثر اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ

لاہور میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ چھ سے آٹھ گھنٹے تک پہنچ گئی ہے، جس سے نہ صرف گھریلو صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ تجارتی اور صنعتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

لاہور میں لوڈشیڈنگ کا بحران شدید، تجارتی سرگرمیاں متاثر اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ

اہم ترین حقائق و پس منظر

صوبائی دارالحکومت لاہور میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن ایک بار پھر بے قابو ہو گیا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ چھ سے آٹھ گھنٹے تک جا پہنچا ہے۔ لیسکو کی جانب سے فراہم کردہ دعوؤں کے برعکس شہر کے گنجان آباد علاقوں اور صنعتی زونز میں طویل اور غیراعلانیہ بریک ڈاؤنز معمول بن چکے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف عام شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے بلکہ تعلیمی اداروں اور اسپتالوں میں بھی امورِ زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات

بجلی کے اس بحران نے لاہور کی معیشت اور خصوصاً چھوٹے پیمانے کے کاروبار کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مارکیٹوں، بازاروں اور تجارتی مراکز میں دکان دار سارا دن جنریٹر اور یو پی ایس کے سہارے کام کرنے پر مجبور ہیں، جن کے اخراجات نے چھوٹے تاجروں کی کمر توڑ دی ہے۔ خصوصاً پرنٹنگ پریس، ورکشاپس، بیکریز اور گارمنٹس سے وابستہ چھوٹے کارخانے بجلی نہ ہونے کے باعث ادھوری پیداوار پر مجبور ہیں۔ اس بحران سے ریٹیل سیکٹر کی فروخت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور مہنگائی کے اس دور میں تاجروں کے لیے اپنے یومیہ اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

لاہور کی تاجر برادری اور انجمنِ تاجران کے نمائندوں نے حکومت اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک طرف بجلی کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں اور دوسری طرف بجلی کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جا رہی۔ دوسری جانب، لیسکو حکام کا مؤقف ہے کہ لائن لاسز اور ریکوری میں کمی کے باعث بعض فیڈرز پر لوڈ مینجمنٹ کرنا مجبوری بن چکا ہے، تاہم کوشش کی جا رہی ہے کہ جلد از جلد ترسیلی نظام کو بہتر بنایا جائے۔

مستقبل کا منظرنامہ

اگر بجلی کی اس غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے دنوں میں صنعتی پیداوار میں مزید کمی اور بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر توانائی کے شعبے میں ساختی اصلاحات لانے کی ضرورت ہے تاکہ شہریوں اور تاجروں کو اس اذیت سے نجات دلائی جا سکے بصورت دیگر تجارتی احتجاج کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
لاہور میں لوڈشیڈنگ کا بحران شدید، تجارتی سرگرمیاں متاثر اور شہریوں کی مشکلات میں اضافہ