Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خدشات کے پیش نظر پشاور ہائیکورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس نے وفاق اور صوبے کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا میں وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج یا مالی و انتظامی ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کی گونج کے بعد معاملہ باقاعدہ طور پر پشاور ہائیکورٹ پہنچ گیا ہے۔ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی آئینی درخواست میں وفاقی حکومت اور متعلقہ انتظامی اداروں کو فریق بناتے ہوئے استدعا کی گئی ہے کہ صوبے میں منتخب جمہوری حکومت کی موجودگی میں ماورائے آئین کسی بھی قسم کے اقدام کو روکا جائے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 232 اور 234 واضح شرائط کا تقاضا کرتے ہیں جن کی عدم موجودگی میں گورنر راج نافذ کرنا سراسر غیر جمہوری اور غیر آئینی عمل ہوگا۔ حالیہ دنوں میں وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے مابین بیانات کی جنگ اور احتجاجی سیاست کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال نے اس بحران کو جنم دیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی عدم استحکام اور گورنر راج کے خدشات نے صوبے کے تجارتی حلقوں میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ خیبر پختونخوا پہلے ہی معاشی دباؤ، قرضوں کے بوجھ اور امن و امان کے مسائل کا شکار ہے۔ اس غیر یقینی صورتحال کے باعث مقامی ہول سیل منڈیوں، ریٹیل سیکٹر اور سرحد پار پاک افغان تجارت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ تجارتی سرگرمیوں میں تعطل کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ہے جس سے روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ سرمایہ کاروں نے صوبے میں نئے منصوبوں پر عملدرآمد فی الوقت مؤخر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی تاجروں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے طبقے کو سنگین معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وفاق اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور عوامی مینڈیٹ کو مسخ کرنے کے لیے غیر آئینی ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے، جس کی عدالتی اور عوامی دونوں سطحوں پر بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ دوسری جانب وفاقی وزراء کا مؤقف رہا ہے کہ صوبائی حکومت وفاق پر چڑھائی اور امن و امان کی خراب صورتحال کی ذمہ دار ہے، اور ریاست کے پاس امن عامہ قائم رکھنے کے لیے آئینی راستے کھلے ہیں۔ ادھر تاجر تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس نے تمام فریقین سے تحمل کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاست کی نذر ہونے والے فیصلوں کا سارا نقصان عوام اور معیشت کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ پشاور ہائیکورٹ میں دائر اس درخواست کی ابتدائی سماعت صوبے کے سیاسی و معاشی مستقبل کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر عدالت کی جانب سے وفاق کے ممکنہ اقدامات پر امتناعی حکم جاری ہوتا ہے تو اس سے صوبائی حکومت کو ایک بڑی قانونی راحت ملے گی، تاہم سیاسی کشمکش فوری ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آتے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ تنازع اگر آئینی اور سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو صوبے میں انتظامی انتشار میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا تدارک صرف تمام ریاستی اداروں کے مابین باہمی احترام اور آئین کی مکمل پاسداری سے ہی ممکن ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا میں ممکنہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج