خیبر پختونخوا میں احتجاج کے کوئی آثار نظر نہیں آئے: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا دعویٰ
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں احتجاج کی کال کے باوجود کوئی عوامی آثار نظر نہیں آئے، جبکہ تاجر برادری سیاسی کشیدگی کے معاشی اثرات پر نالاں ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں حکومت مخالف احتجاج کے تاحال کوئی نمایاں آثار نظر نہیں آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے مسلسل بیانات کے باوجود عوامی سطح پر اس تحریک کو پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔ وفاقی وزیر کے مطابق صوبائی انتظامیہ اور عوامی حلقے معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور سڑکوں پر کسی بڑے احتجاج یا عوامی ردعمل کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت بلند ہے اور اپوزیشن جماعتیں عوامی رابطہ مہم کے ذریعے وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی اپنا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر کا یہ مؤقف حکومتی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، جس میں یہ باور کرایا گیا ہے کہ عوام انتشار کی سیاست سے لاتعلق ہو چکے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات سیاسی عدم استحکام اور ممکنہ احتجاجی تحریکیں ہمیشہ سے ملکی معیشت اور تجارتی شعبے پر منفی اثرات مرتب کرتی آئی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور وفاق کے مابین تناؤ کی فضا سے مقامی مارکیٹیں، ہول سیل مراکز اور بین الصوبائی لاجسٹکس شدید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ جب بھی احتجاج یا دھرنوں کی کال دی جاتی ہے، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ اور سپلائی چین میں تعطل کے باعث اجناس کی ترسیل متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں خوردہ سطح پر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ ریٹیلرز اور ہول سیلرز کے مطابق مسلسل بے یقینی سے سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں، جس سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کا روزگار سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ ملکی معیشت جو پہلے ہی مہنگائی اور مالیاتی دباؤ سے نبردآزما ہے، مزید کسی ہیجان کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی ترجمانوں نے وفاقی وزیر دفاع کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی امور اور امن و امان کی بحالی اولین ترجیح ہے اور کسی گروہ کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ معاشی بحالی کا عمل شروع ہو چکا ہے اور سیاسی انتشار اس عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن رہنماؤں نے حکومتی دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی طاقت کے ذریعے عوامی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کارکنوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاجر رہنماؤں نے دونوں فریقین سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ مارکیٹوں میں معمول کی سرگرمیاں بغیر کسی خوف کے جاری رہ سکیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں سیاسی کشمکش کے اثرات مجموعی ریاستی نظم اور معاشی پالیسیوں پر واضح ہو کر سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر فریقین کے مابین تلخی کم نہ ہوئی تو قانونی و انتظامی کارروائیوں میں شدت پیدا ہو سکتی ہے، جس سے سیاسی تقسیم مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مارکیٹ کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو محاذ آرائی ترک کر کے ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر تجارتی خسارہ اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں تعطل عوامی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp