Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

کراچی گرین لائن منصوبے کی زبون حالی: برقی زینے خراب، لفٹس معطل اور سامان کی چوری پر مالیاتی و عوامی حلقوں کی تشویش

کراچی کے اہم ترین ٹرانسپورٹ منصوبے گرین لائن کی زبون حالی، لفٹس اور برقی زینوں کی خرابی اور سامان کی چوری نے انتظامیہ کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔

کراچی گرین لائن منصوبے کی زبون حالی: برقی زینے خراب، لفٹس معطل اور سامان کی چوری پر مالیاتی و عوامی حلقوں کی تشویش

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے عزم کے ساتھ شروع کیا جانے والا گرین لائن بس سروس منصوبہ آج کل شدید انتظامی بدحالی اور عدم توجہی کا شکار ہے۔ شہر کے اس اہم ترین کوریڈور کے متعدد اسٹیشنز پر نصب برقی زینے اور لفٹس طویل عرصے سے ناکارہ پڑے ہیں، جس کی وجہ سے بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور معذور افراد کے لیے سفر کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف منصوبے کے بنیادی مقاصد کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ سرکاری املاک کی دیکھ بھال کے نظام پر بھی گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اسٹیشنز سے ناصرف مشینری خراب ہو رہی ہے بلکہ مختلف حصوں اور قیمتی سامان کی چوری کے واقعات بھی رونما ہو رہے ہیں، جو سکیورٹی پر معمور اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات اس زبون حالی کا براہ راست اثر معاشی سرگرمیوں اور روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے والے محنت کش طبقے پر پڑ رہا ہے۔ گرین لائن کوریڈور کے گردونواح میں واقع تجارتی مراکز اور کاروباری مقامات تک رسائی متاثر ہونے کی وجہ سے ریٹیلرز اور تاجر برادری کو بھی بالواسطہ معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ سرکاری سرمایه سے لگائی گئی کروڑوں روپے کی مشینری کا اس طرح بے دردی سے خراب ہونا اور چوری ہونا قومی خزانے کے ساتھ صریحاً کھلواڑ ہے۔ اگر وقت پر اس کی مرمت اور بحالی کا کام نہ کیا گیا تو یہ مہنگا ترین منصوبہ قبل از وقت ہی ناکارہ ہو جائے گا، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا مزید نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل عوامی حلقوں، سول سوسائٹی اور تاجر تنظیموں نے گرین لائن انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ٹکٹس کی مد میں پوری قیمت ادا کرتے ہیں مگر انہیں بنیادی نوعیت کی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ دوسری جانب، متعلقہ محکمے کے حکام ہمیشہ کی طرح روایتی غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فنڈز کی کمی اور بیوروکریٹک تاخیر کا رونا رو رہے ہیں۔ نہ تو حکام اس کی مرمت کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہے ہیں اور نہ ہی ملوث عناصر کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ اگر فوری طور پر اعلیٰ سطح پر اس صورتحال کا نوٹس نہ لیا گیا اور گرین لائن منصوبے کی جامع آڈٹ اور بحالی کا کام شروع نہ کیا گیا تو یہ عوامی مفاد کا منصوبہ مکمل طور پر بند ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ خراب لفٹس اور برقی زینوں کو فوری طور پر درست کیا جائے، سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں چوری کے ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے اور شہریوں کو سفری سہولیات بلا تعطل فراہم کی جا سکیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
کراچی گرین لائن منصوبے کی زبون حالی: برقی زینے خراب، لفٹس معطل اور سامان کی چوری پر مالیاتی و عوامی حلقوں کی تشویش