گورنر خیبر پختونخوا کا صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس، امن و امان اور معاشی استحکام پر غور
گورنر خیبر پختونخوا کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال اور کاروباری سرگرمیوں کے تحفظ کا جائزہ لیا جائے گا۔

اہم ترین حقائق و پس منظر گورنر خیبر پختونخوا نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، سکیورٹی کے چیلنجز اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لیے صوبائی اپیکس کمیٹی کا ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں صوبے کے وزراء، عسکری حکام، انٹیلی جنس اداروں کے نمائندگان اور سول انتظامیہ کے اعلیٰ افسران شرکت کریں گے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد صوبے کی مجموعی اندرونی سکیورٹی کا جائزہ لینا، دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کا تدارک کرنا اور پاک افغان سرحد سمیت حساس علاقوں میں حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ حالیہ دنوں میں صوبے کے مختلف اضلاع بالخصوص ضم شدہ اضلاع میں امن و امان کے حوالے سے پیش آنے والے واقعات نے کاروباری طبقے اور عام شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جس کے پیش نظر اس اعلیٰ سطح کے اجلاس کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا کا خطہ طویل عرصے سے سکیورٹی کے چیلنجز کی وجہ سے معاشی اور تجارتی دباؤ کا شکار رہا ہے۔ تجارت اور صنعت کا دار و مدار براہ راست پائیدار امن اور بلا تعطل سپلাই چین پر ہوتا ہے۔ سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ مہنگائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ریٹیلرز، ہول سیلرز اور پشاور کے مرکزی کاروباری مراکز کے نمائندگان کے مطابق امن و امان کی بہتری کے بغیر معاشی بحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس سے تاجر برادری کو یہ امید بندھی ہے کہ طویل المدتی تجارتی روٹس، لنڈی کوتل اور طورخم بارڈر پر تجارتی نقل و حرکت کو محفوظ بنایا جائے گا تاکہ صوبے میں تجارتی گھاٹے کو کم کیا جا سکے اور قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل صوبائی حکومت اور عسکری قیادت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے بغیر ترقی ممکن نہیں، اور اس مقصد کے لیے تمام سکیورٹی اداروں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مزید مربوط بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صوبائی حکومت نے وفاق کے ساتھ مل کر سکیورٹی کے معاملات کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ پشاور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور دیگر تاجر تنظیموں نے اپیکس کمیٹی کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تاجروں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، جب کہ بھتہ خوروں اور غیر قانونی عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کاروباری طبقہ اس مشکل وقت میں ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہے بشرطیکہ انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ ماہرینِ معیشت اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اپیکس کمیٹی کے اس اجلاس کے فیصلوں کے صوبے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اگر اجلاس میں طے پانے والے سکیورٹی پلان پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تو اس سے نہ صرف دہشت گردی کے خطرات میں کمی آئے گی بلکہ صوبے میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی نیا فروغ ملے گا۔ مستقبل میں صوبائی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج پائیدار امن کا قیام اور معاشی بحالی کے لیے نئے منصوبوں کا آغاز کرنا ہوگا۔ اگلے چند ہفتوں میں نافذ کیے جانے والے حفاظتی اقدامات یہ طے کریں گے کہ آیا خیبر پختونخوا سرمایہ کاری کے لیے دوبارہ پرکشش بن سکتا ہے یا نہیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp