Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وفاقی پولیس کا احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے نیٹ لانچر کا پہلا استعمال، سکیورٹی حکمت عملی تبدیل

وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر پولیس نے مظاہروں سے نمٹنے کے لیے پہلی بار نیٹ لانچر کا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے سکیورٹی کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

وفاقی پولیس کا احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے نیٹ لانچر کا پہلا استعمال، سکیورٹی حکمت عملی تبدیل

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں سیاسی جماعت تحریک انصاف کے متوقع احتجاج اور دھرنوں کے پیش نظر وفاقی پولیس نے اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے پہلی بار جدید 'نیٹ لانچر' ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ اقدام مظاہرین کو جانی نقصان پہنچائے بغیر قابو پانے اور روایتی لاٹھی چارج یا آنسو گیس کے استعمال سے گریز کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے وزارت داخلہ اور پولیس کے اعلیٰ حکام کے درمیان کئی اہم اجلاس ہوئے جن میں اس جدید غیر مہلک (non-lethal) آلات کی فراہمی اور تربیت کا جائزہ لیا گیا۔ ماضی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران فریقین کے درمیان پرتشدد جھڑپیں دیکھنے میں آئیں جن سے جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس تناظر میں پولیس نے ایسی حکمت عملی تیار کی ہے جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مظاہرین دونوں کے لیے خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

تجارتی و معاشی اثرات دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات اور راستوں کی بندش کا براہ راست اثر تجارتی سرگرمیوں، منڈیوں اور عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ کاروباری طبقے اور ریٹیلرز کے مطابق اس طرح کے احتجاج اور سخت سکیورٹی اقدامات سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کا معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ خریداروں کی آمد و رفت محدود ہونے سے مارکیٹوں میں سناٹا چھا جاتا ہے جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی نقل و حمل کی مشکلات کی وجہ سے عارضی طلاطم دیکھا جاتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے سکیورٹی اقدامات اگرچہ امن و امان کے لیے ضروری ہیں تاہم طویل المدتی بنیادوں پر یہ تجارت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے سازگار نہیں ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی انتظامیہ اور پولیس حکام کا موقف ہے کہ قانون کی بالادستی اور سرکاری و نجی املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ پولیس ترجمان کے مطابق نیٹ لانچر کا مقصد مظاہرین کو منتشر کرنے کا ایک پرامن اور محفوظ طریقہ اختیار کرنا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب، تحریک انصاف اور دیگر سیاسی حلقوں نے اس نئے سکیورٹی اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے حربے بنیادی جمہوری حقوق اور پُر امن احتجاج کے آئینی حق کو دبانے کی کوشش ہیں۔ تاجر برادری نے بھی حکومت اور اپوزیشن دونوں سے اپیل کی ہے کہ معاشی استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں سکیورٹی اداروں کی جانب سے اس نئی ٹیکنالوجی کا عملی استعمال قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا تجربہ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیٹ لانچر کا استعمال کامیاب ثابت ہوتا ہے تو مستقبل میں ملک بھر کے دیگر بڑے شہروں میں بھی پولیس فورسز کو اس سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سیاسی بات چیت ناگزیر ہے تاکہ معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے اور کاروباری برادری سکون کا سانس لے سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وفاقی پولیس کا احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے لیے نیٹ لانچر کا پہلا استعمال، سکیورٹی حکمت عملی تبدیل