وفاقی حکومت کی اپوزیشن سے مفاہمت کی آخری کوشش، مولانا فضل الرحمٰن متحرک
وفاقی حکومت نے سیاسی محاذ آرائی ختم کرنے کے لیے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو ثالثی کا کردار سونپ دیا ہے تاکہ اپوزیشن سے معاملات طے کیے جا سکیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں سیاسی گہमागहमी عروج پر پہنچ چکی ہے جہاں وفاقی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ ڈیڈلاک ختم کرنے کے لیے آخری اور فیصلہ کن کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو کلیدی کردار سونپا گیا ہے تاکہ وہ حکومتی اتحادیوں اور اپوزیشن کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف حکومتی امور کو متاثر کیا ہے بلکہ پارلیمانی سطح پر بھی محاذ آرائی میں شدت آئی ہے۔ پس منظر میں دیکھا جائے تو دونوں فریقین کے مابین آئینی اور سیاسی معاملات پر طویل عرصے سے سرد جنگ جاری ہے، جسے ختم کرنے کے لیے اب پشت پناہی سے کی جانے والی کوششیں رنگ لانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کے براہ راست اثرات قومی معیشت، تجارت اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑ رہے ہیں۔ مالیاتی ماہرین اور تجارتی تنظیموں کے مطابق، سیاسی کشیدگی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے، جس سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور اوپن مارکیٹ میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ تجارتی منڈیوں میں خام مال کی درآمد، سپلائی چین اور ریٹیل سیکٹر کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سیاسی بحرانوں سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور روزمرہ کی معاشی سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں۔ تاجر رہنماؤں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی جماعتیں ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی معیشت کے استحکام کے لیے فوری طور پر قومی مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی بہتری کے خواہاں ہیں اور جمہوریت کے تسلسل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا شمار ملک کےجید اور با اثر سیاستدانوں میں ہوتا ہے جن کی بصیرت سے سیاسی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں نے اس پیشرفت پر تاحتیاطی رویہ اختیار کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے گئے تاہم حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے جائز مطالبات اور تحفظات کو سنجیدہ لینا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ محض دکھاوے کے رابطوں سے سیاسی بحران حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند روز ملک کی سیاسی سمت متعین کرنے میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر مولانا فضل الرحمٰن کی یہ ثالثی کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جاری محاذ آرائی میں کمی آئے گی بلکہ معاشی بہتری کی راہ میں حائل رکاوٹیں بھی دور ہوں گی۔ اس کے برعکس، اگر فریقین لچک کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے تو ملک مزید سنگین سیاسی اور معاشی بحران کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔ اب سب کی نظریں مولانا فضل الرحمٰن کے اگلے اقدامات اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان ممکنہ ملاقاتوں کے نتائج پر مرکوز ہیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp