ڈیجیٹل لت کا بڑھتا ہوا بحران: بزرگ شہریوں پر اسمارٹ فونز کے گہرے اثرات اور معاشی چیلنجز
سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز کا بے دریغ استعمال اب صرف نوجوان نسل تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ بزرگ شہریوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، جس کے دور رس معاشی اور سماجی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر جدید دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں انسانی زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں اس کے منفی اثرات بھی تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کی لت اب صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ بزرگ شہریوں، بالخصوص 60 سال سے زائد عمر کے افراد کو بھی شدید طریقے سے متاثر کر रही ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی کہانیاں بتاتی ہیں کہ کس طرح بزرگ افراد بے دھیانی میں گھنٹों اسکرین پر سکرولنگ کرتے رہتے ہیں اور انہیں وقت گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اس نوعیت کی ڈیجیٹل لت نے نہ صرف خریداروں کے رویوں کو بدلا ہے بلکہ خاندانی نظام اور بزرگوں کی ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو بزرگ شہریوں میں اسمارٹ فونز کا یہ بے قابو استعمال ڈیجیٹل مارکیٹ اور کارپوریٹ سیکٹر کے لیے ایک نیا رجحان ہے۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اس طرح کے الگورتھم تیار کر رہے ہیں جو ہر عمر کے صارف کو باندھ کر رکھتے ہیں۔ تاہم، بزرگ افراد جو عموماً طے شدہ بجٹ اور ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارتے ہیں، اس ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن شاپنگ کے جال میں آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، اسکرین پر زیادہ وقت صرف کرنے سے ان کی جسمانی نقل و حرکت اور قوتِ خرید کے فیصلے بھی متاثر ہوتے ہیں، جس سے بالواسطہ طور پر ان کی صحت کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور معاشی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ماہرینِ نفسیات اور فلاحی تنظیموں کا اس صورتحال پر کہنا ہے کہ معاشرے کو اس خاموش بحران کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ بزرگ شہریوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ حکومت اور صحت عامہ کے اداروں کو ایسے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے جو بزرگوں میں ڈیجیٹل سیفٹی اور اعتدال پسندانہ استعمال کے بارے میں آگاہی فراہم کریں۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ پلیٹ فارمز کو ایسے فیچرز متعارف کروانے چاہئیں جو بزرگ صارفین کو ان کے یومیہ استعمال سے آگاہ کریں اور اس لت سے نجات میں مددگار ثابت ہوں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے برسوں میں اگر اس رجحان کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ بزرگ شہریوں میں تنہائی، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی امراض میں اضافے کا باعث بنے گا۔ معاشی اور سماجی سطح پر اس کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ خاندان کے افراد بزرگوں کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں اور انہیں ڈیجیٹل دنیا سے ہٹا کر حقیقی سرگرمیوں کی طرف راغب کریں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ پالیسی سطح پر ایسے اقدامات کریں جن سے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے اخلاقی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے، تاکہ معاشرے کا یہ اہم ترین طبقہ ذہنی سکون اور صحت مند زندگی گزار سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp