وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ کا پی ٹی آئی کو سنجیدہ مذاکرات کا مشورہ، معاشی استحکام پر گہرے اثرات متوقع
وفاقی وزیر قانون نے پی ٹی آئی کو سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ مذاکرات کا مشورہ دیا ہے، جس سے معاشی استحکام اور کاروباری فضا پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مشورہ دیا ہے کہ وہ تمام تنازعات کو پس پشت ڈال کر پارلیمنٹ کے اندر اور آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرے۔ حالیہ مہینوں میں ملک کے اندر سیاسی محاذ آرائی نے جس طرح شدت اختیار کی ہے، اس نے نہ صرف حکومتی امور کو متاثر کیا ہے بلکہ عامتہ الناس کی روزمرہ زندگی اور ملکی معیشت کو بھی شدید دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔ اعظم نذیر تارڑ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے اور کسی بھی فریق کی جانب سے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔ سیاسی حلقوں میں اس پیشکش کو ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم پی ٹی آئی کی طرف سے اس پر تادم تحریر کوئی حتمی اور مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔ پس منظر میں دیکھا جائے تو سن دو ہزار بائیس کے بعد سے سیاسی عدم استحکام پاکستانی سیاست کا مستقل حصہ بن چکا ہے جس نے ہر سطح پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات کسی بھی ملک میں معاشی ترقی کا براہ راست تعلق سیاسی استحکام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت جن معاشی چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں مہنگائی کی بلند شرح، روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور صنعتی سست روی سرفہرست ہیں۔ سیاسی کشیدگی کے جاری رہنے کی وجہ سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے، جو کہ نئے کاروباری منصوبوں اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (एफडीआई) کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ تجارتی منڈیوں اور ریٹیلرز کا کہنا ہے کہ سیاسی دنگل کی وجہ سے عام صارف کی قوت خرید متاثر ہو رہی ہے اور منڈی میں بے یقینی کی فضا چھائی ہوئی ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں باہمی افہم و تفہیم سے کام لیتے ہوئے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا نہ کریں تو مہنگائی میں کمی اور برآمدات میں اضافے کے حکومتی دعوے محض کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں گے۔ کاروباری برادری مسلسل یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ معیشت کو سیاست سے الگ رکھا جائے تاکہ تجارتی پہیہ رواں دواں رہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی حکومت اور اس کے اتحادیوں کا مؤقف رہا ہے کہ ملک کو اس وقت کسی بھی قسم کے احتجاجی دنگل یا انارکی کی ہرگز گنجائش نہیں ہے۔ حکومتی ترجمانوں کے مطابق، معاشی بحالی کا سفر اس وقت تک جاری نہیں رہ سکتا جب تک سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ نہ ہو۔ اعظم نذیر تارڑ کا مؤقف ہے کہ پارلیمنٹ تمام مسائل کے حل کا بہترین فورم ہے اور اپوزیشن کو اپنے تمام تحفظات آئینی طریقے سے ہی اٹھانے چاہئیں۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے اس مشورے کو مشکوک نگاہوں سے دیکھا ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ حکومت پہلے ان کے مینڈیٹ کی واپسی اور گرفتار کارکنوں کی رہائی کے حوالے سے عملی اقدامات کرے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ جب تک بنیادی مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، اس طرح کی مذاکراتی پیشکشوں پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔ تاجر برادری اور سول سوسائٹی کے مختلف طبقات دونوں فریقین سے بارہا یہ اپیل کر چکے ہیں کہ وہ ضد کی سیاست چھوڑ کر عوام کے وسیع تر مفاد میں قومی ڈائیلاگ کا آغاز کریں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتے پاکستانی سیاست اور معیشت کے مستقبل کے تعین میں انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے مابین پس پردہ یا سامنے کے مذاکرات کا کوئی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت کم ہوگا بلکہ مارکیٹ میں مثبت معاشی اشاریے بھی ابھریں گے۔ اس کے برعکس، اگر محاذ آرائی کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو ملک مزید طویل المدتی معاشی بحرانوں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک کی جانب سے بھی بارہا اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان کو سیاسی و پالیسی تسلسل کی اشد ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عقل و دانش کا مظاہرہ کرتے ہوئے فریقین تلخیوں کو بھلا کر میز پر بیٹھنے کو تیار ہوتے ہیں یا پھر محاذ آرائی کی یہ آگ ملک کو مزید معاشی نقصان سے دوچار کرتی ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp