Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

حکومتی مذاکرات محض دکھاوا تھے، اسد قیصر کا الزام اور ملکی معیشت پر سیاسی تعطل کے اثرات

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت مذاکرات کے نام پر محض دکھاوا کر رہی تھی، جس سے سیاسی و معاشی بے یقینی گہری ہو گئی ہے۔

حکومتی مذاکرات محض دکھاوا تھے، اسد قیصر کا الزام اور ملکی معیشت پر سیاسی تعطل کے اثرات

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے موجودہ حکومتی اتحاد پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکمران اتحاد کی جانب سے سیاسی تنازعات کے حل کے لیے کی جانے والی بات چیت محض ایک دکھاوا تھی۔ ان کے مطابق حکومت کا مقصد بحران کا کوئی پائیدار سیاسی حل نکالنا نہیں بلکہ وقت حاصل کرنا اور اپوزیشن کو الجھائے رکھنا تھا۔ ملک میں عام انتخابات کے بعد سے جاری سیاسی کھینچ تان، پارلیمانی تلخیوں اور سڑکوں پر جاری احتجاج کے ماحول میں یہ بیان اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں بڑی سیاسی قوتوں کے مابین خلیج مزید وسیع ہو چکی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے اقتدار کے ایوانوں میں مذاکراتی عمل کے تعطل نے ریاستی امور اور پارلیمانی کارروائیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات مسلسل سیاسی بے یقینی ملکی معیشت کے لیے سمِ قاتل ثابت ہو رہی ہے۔ جب ریاستی سطح پر مذاکرات کی ناکامی اور تصادم کی فضا پروان چڑھتی ہے تو اس کے براہ راست اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج، زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کی قدر پر مرتب ہوتے ہیں۔ مقامی تاجر اور بین الاقوامی سرمایہ کار غیر یقینی سیاسی صورتحال کے باعث نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری روک چکے ہیں، جس کے نتیجے میں صنعتی پیداوار سست روی کا شکار ہے۔ ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹوں میں سامان کی رسد اور قیمتوں کا توازن بگڑ رہا ہے، جس نے براہ راست عام صارفین کی قوت خرید کو سلب کر لیا ہے۔ تجارتی برادری کا کہنا ہے کہ افراط زر پر قابو پانے کے لیے حکومتی پالیسیوں کی کامیابی سیاسی استحکام سے مشروط ہے، جو فی الوقت ناپید دکھائی دیتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل اسد قیصر اور تحریک انصاف کی قیادت کا مؤقف ہے کہ جب تک شفاف عدالتی نظام، گرفتار رہنماؤں کی رہائی اور عوام کے انتخابی مینڈیٹ کا احترام نہیں کیا جاتا، تب تک مذاکرات محض وقت کا ضیاع ہیں۔ دوسری جانب حکومتی ترجمانوں کا دعویٰ ہے کہ ریاست نے ہمیشہ آئینی اور قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے بات چیت کے دروازے کھلے رکھے، تاہم اپوزیشن کا رویہ مسلسل غیر لچکدار اور دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر مبنی رہا ہے۔ تاجر تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس نے بھی دونوں فریقین سے ذاتی انا کو بالائے طاق رکھ کر ملکی مفاد میں فوری طور پر قومی مفاہمتی ایجنڈے پر متفق ہونے کی اپیل کی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں سیاسی محاذ آرائی میں مزید تیزی آنے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں احتجاجی سیاست اور قانونی معرکوں کا نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن بامعنی اور سنجیدہ بات چیت کا راستہ اختیار نہیں کرتیں تو بیرونی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے متوقع سرمایہ کاری کے عمل میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ معاشی پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ موجودہ تعطل نہ صرف مہنگائی کے دباؤ کو برقرار رکھے گا بلکہ ملک میں مجموعی اقتصادی بحالی کے عمل کو بھی طویل عرصے کے لیے غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
حکومتی مذاکرات محض دکھاوا تھے، اسد قیصر کا الزام اور ملکی معیشت پر سیاسی تعطل کے اثرات